لکھنؤ :
اترپردیش میں غیر قانونی تبدیلی مذہب کے معاملے کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس ) جانچ کررہی ہے ۔ اے ٹی ایس کی ٹیم نے اسلامک دعوہ سینٹر (آئی ڈی سی) سے جڑے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ اس دوران اسلامک دعوہ سینٹر سے ملے دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں ڈاکٹر، انجینئراور پی ایچ ڈی ہولڈر بھی موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامک دعوہ سینٹر سے تعلق رکھنے والے محمد عمر گوتم اور مفتی جہانگیر عالم قاسمی کے ذریعہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں کروائے گئے تبدیلی مذہب کے 81 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سامنے آئی ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والوں میں زیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اس میں سرکاری نوکری کرنے والے، بی ٹیک تک تعلیم حاصل کر چکا ٹیچر ، ایم بی اے پاس کرکے نوکری کررہاہے نوجوان، سینئر سافٹ ویئر انجینئر ، دہلی کے اسپتال کی اسٹاف نرس ، گجرات کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ، الیکٹرکلس میں ڈپلومہ ہولڈر ایم فارمہ، پی ایچ ڈی کرچکے نوجوان شامل ہیں۔
اس کو لے کر یو پی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کاکہنا ہے کہ ’کوئی گمراہ کرکے غیر ملکی پیسہ کا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کرے گا تو یوپی کوئی چارہ گاہ نہیں ہے جو چرتے رہیں گے ۔ ان پر سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
کیشو پرساد موریہ نے کہا ،’اس خطرناک کھیل میں تمام ملکی اور غیر ملکی طاقتیں زہر گھول رہی ہیں۔ اس کی بہت گہرائی سے تفتیش کی جارہی ہے۔ جو بھی قصوروار پایا جائے گا اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ‘
آبادی پر قابو پانے کے قانون کے سوال پر کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو چاپلوسی کی سیاست ہوگی نہ ہی کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ یوپی کے تقسیم پر کیشو پرساد موریہ نے کہاکہ انہیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے ۔










