جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر کے نندربار ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار پر طنز کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد میں فخر کے ساتھ شامل ہونا کانگریس میں ضم ہونے اور چار دن میں مرنے سے بہتر ہے۔ اس ریلی میں پی ایم مودی نے شرد پوار کو بی جے پی کا ساتھ دینے کا مشورہ دیا۔
درحقیقت معاملہ کچھ یوں ہے کہ حال ہی میں انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا تھا کہ اگلے چند سالوں میں بہت سی علاقائی پارٹیاں کانگریس کے ساتھ جڑیں گی، ان میں سے کئی کانگریس میں ضم بھی ہو سکتی ہیں۔ان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے پی ایم مودی نے جمعہ کو انہیں ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کی طرح بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا مشورہ دیا۔
انگریزی اخبار دی انڈین کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو این سی پی (شرد چندر پوار) کے رہنما شرد پوار کے اس حالیہ بیان کا مذاق اڑایا جس میں پوار نے کہا تھا کہ آنے والے برسوں میں چھوٹی علاقائی جماعتیں کانگریس کے قریب آ سکتی ہیں یا ضم ہو سکتی ہیں۔ .
ان کا نام لیے بغیر، پی ایم مودی نے پوار کی پارٹی کو "جعلی این سی پی” قرار دیا اور کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد میں شامل ہونا بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ وہ کانگریس میں ضم ہو جائیں اور "چار دن میں مر جائیں”۔
پوار نے وزیر اعظم کے طنز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہرو-گاندھی نظریہ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور مسلم مخالف موقف اختیار کرنے والوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔شرد پوار نے وزیر اعظم پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ان پر ایک خاص برادری کے خلاف موقف اختیار کرنے کا الزام لگایا، اورکہا وہ نہرو-گاندھی کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں۔
شرد پوار نے کہا کہ ہم نہرو-گاندھی نظریہ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہم کہیں نہیں جائیں گے اور نظریے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریروں میں مسلم کمیونٹی کے بارے میں کچھ تبصرے کیے ہیں، میں نے سنا ہے
اگر ہم نے اس ملک کو آگے لے جانا ہے اور متحد رہنا ہے تو ہمیں تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ہم کسی کمیونٹی کو سائیڈ لائن نہیں کر سکتے۔ ہم کسی ایک کمیونٹی کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق شرد پوار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی بار بار ایک خاص کمیونٹی کے خلاف موقف اختیار کر رہے ہیں۔ جبکہ خود ان کے خلاف رائے عامہ بن رہی ہے اور اسی وجہ سے وہ بے چینی محسوس کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے رہے ہیں۔
مودی ہماری ضرورت محسوس کر رہے ہوں گے، لیکن ہم اس نظریے کو چھوڑ کر کبھی بھی ان کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے۔









