لکھنؤ:
لکھنؤ کی ایک عدالت نے پولیس کو اترپردیش شعیہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف عصمت دری کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے اور جانچ کرنے کاحکم دیا ہے ۔
یہ حکم منگل کو ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ اے کے سریواستو نے سی آر پی سی کی دفعہ 156 (3)کے تحت متاثرہ خاتون کی طرف سے ایک درخواست پر سماعت کے دوران دیا۔ عدالت نے حکم صادر کرتے ہوئے تین دن کے اندر سعادت گنج تھانہ سے ایف آئی آر کی کاپی طلب کی ہے ۔
درخواست میں متاثرہ نے کہاکہ اس کا شوہر چار سال سے رضوی کے ساتھ ڈرائیور تھا۔ متاثرہ نے الزام لگایاکہ ایک دن رضوی نے اسے گھر سے باہر بھیج دیا اور پھر رات میں اس کے گھر آیا اور اس کی عصمت دری کی۔ اس نے اس کی قابل اعتراض تصویریں بھی لیں اور سوشل میڈیا سائٹوں پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دی۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اس نے ورادات کے بارے میں کسی کو اطلاع نہیں دینے، ورنہ اس کے شوہر کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ،لیکن رضوی نے اس کے شوہر کو بار بار کسی کام کے بہانے گھر سے باہر بھیج کر اس کے ساتھ عصمت دری کرنا جاری رکھا۔
رضوی نے حال ہی میں قرآن شریف کے خود کا ایڈیشن شائع کیا ہے،نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ان کا سابق ڈرائیور ان کے مخالفین کو اطلاع دے رہاتھا۔











