نئ دہلی: ہائی کورٹ نے حال ہی میں چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ (سی ایم ایم) کے ذریعہ جاری کردہ تلاشی وارنٹ اور نچلی عدالت کے ذریعہ پاس کردہ کچھ دیگر احکامات پر عمل درآمد پر روک لگا دی ہے، جس میں دہلی پولیس کو ایڈوکیٹ محمود پراچا کے دفتر کی تلاشی لینے کی اجازت دی گئی۔
سنگل جج جسٹس جسمیت سنگھ نے یہ نوٹ کرنے کے بعد حکم جاری کیا کہ پولیس نے دسمبر 2020 میں پہلے ہی پراچا کے دفتر کی تلاشی لی تھی اور انہوں نے اسے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 91 (سی آر پی سی) کے تحت نوٹس نہیں دیا تھا
رپورٹس کے مطابق محمود پراچا شمال مشرقی دہلی فسادات کیس میں کچھ ملزمین کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ دہلی پولیس نے اگست 2020 میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ان میں سے ایک کیس میں جعلی دستاویزات تیار کی ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ان کے کمپیوٹر سمیت کچھ دستاویزات ضبط کرلئے۔








