کوردھا ؍چھتیس گڑھ ( ایجنسی)
عیدمیلاد النبیؐ کی تیاریوں کے موقع پر مسلمان اپنے شہر کو سجارہے تھے۔ اسی دوران لوہاراناکہ چوک پر مبینہ پاکستانی جھنڈے پر اعتراض کی آڑ میں ہندو انتہا پسند تنظیم ہندوسینا نے اشتعال پھیلا یا ۔ 3 اکتوبر کو مبینہ طور پر ہزاروں مسلح کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی اور جھنڈے نذر آتش کردئے۔ واضح رہے کہ عیدمیلاد النبی ؐ کے موقع پر استعمال کئے جانےوالے جھنڈے سبز ہوتے ہیں جن کو پاکستانی جھنڈا کہہ کر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔
نیوز ویب سائٹ مکتوب کےمطابق نوشاد نے بتایا کہ عبد میلاد النبی اورنوراتری کے جھنڈے لگانے کے لیے دونوں فرقےآمنےسامنے آگئے ۔ ان میں بحث ہوئی اور دوسرے فرقہ نے جھنڈوں میں آگ لگادی۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق تشدد میں تین پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن لوگ زخمی ہوگئے۔ ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں ہندوکمیونٹی پاکستان مخالف نعرے لگارہی ہے اور جھنڈے نذر آتش کررہی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس موقع پر پولیس تماشائی بنی رہی۔ انڈین ایکسپریس نےاپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد کے بعدمتاثرہ قصبہ میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور 59 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔
بعد ازاں ایک پیس کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی، جس میں جھنڈوں کو ہٹانے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ضلع کلکٹر رمیش کمار کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شرپسند عناصر کو بخشا نہیں جائے گا۔ واضح ہو کہ چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت ہے ۔










