ہریانہ کے نوح علاقے میں تشدد کے بعد آس پاس کے علاقوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ آج تک کی اطلاع کے مطابق نوح میں کرفیو لگادیا گیا ہے جبکہ نیم فوجی دستوں کی 13کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں-گروگرام، فرید آباد، ریواڑی اور میوات اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس تشدد میں 4لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ نوح سے شروع ہونے والے تشدد کا گروگرام میں بھی کافی اثر پڑا ہے، یہاں اسکول اور کالج بند ہیں، گروگرام میں کئی دفاتر ہیں، دارالحکومت دہلی اور باقی این سی آر سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔ اس دوران ضلع میں کشیدگی کی صورتحال سے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، ایسے میں ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اگر ہم صرف گروگرام کی بات کریں تو تشدد کی وجہ سے ضلع کے اسکول اور کالج یکم اگست کو بند کردیئے گئے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ یکم اگست کو تمام سرکاری نجی کالج بند رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق نوح کے مونو مانیسر اور بجرنگ دل سے وابستہ اس کے ساتھیوں پر کئی لوگوں کے قتل کا الزام ہے۔ انہوں نے کچھ دن پہلے ویڈیو وائرل کیا تھا اور کھلا چیلنج کیا تھا کہ وہ یاترا کے دوران میوات میں ہی رہیں گے۔ جس پر اہل علاقہ نے بھی جوابی تیاری کی۔ علاقے کا ماحول پہلے ہی گرم تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جلوس کے دوران کچھ بھیڑ نے مونو مانیسر اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا۔ اس کے بعد نوح شہر کے قریب گروگرام-الور قومی شاہراہ پر زبردست ہنگامہ ہوا۔








