آئرلینڈ، ناروے اور سپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 مئی سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے، جس کے ردعمل میں اسرائیل نے آئرلینڈ اور ناروے سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں جبکہ سپین سے بھی وہ اپنا سفیر واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سپین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ ’اسرائیل کے خلاف ہے‘ اور نہ ہی ’یہ حماس کی حمایت میں ہے‘ بلکہ یہ امن کے حق میں ہے۔
اس کے ردعمل میں اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ’تینوں ممالک کا یہ فیصلہ ’مسخ شدہ اقدام‘ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’دہشتگردی آپ کے لیے سودمند‘ ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ میں 140 ممالک پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں تاہم امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اسے باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ’میں آئرلینڈ اور ناروے کو ایک واضح پیغام دے رہا ہوں کہ اسرائیل ان لوگوں کے خلاف پیچھے نہیں ہٹے گا جو اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل اس پر خاموشی اختیار نہیں کرے گا اور اس کے مزید سنگین نتائج ہوں گے۔ اگر سپین نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کو تبدیل نہ کیا تو اس کے خلاف بھی ایسا ہی قدم اٹھایا جائے گا۔‘
اس کے جواب میں ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانشیز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو ’ابھی تک کان نہیں دھر رہے ہیں۔ وہ اب بھی ہسپتالوں اور سکولوں پر بمباری کر رہے ہیں اور خواتین اور بچوں کو بھوک اور سردی میں رکھ کر سزا دے رہے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’دو ریاستی حل خطرے میں ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس بارے میں کوئی اقدام اٹھائیں جیسے ہم نے یوکرین کے معاملے پر اٹھائے اور دہُرا معیار نہ اپنائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں انسانی امداد بھیجنے کی ضرورت ہے اور پناہ گزینوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے جو ہم پہلے ہی کر رہے ہی، لیکن مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
دنیا میں اکثریتی ممالک پہلے سے ہی فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ رواں مہینے اقوام متحدہ کے 193 ممالک میں سے 143 ممالک نے فلسطین کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔سفارتی نامہ نگار سمجھتے ہیں کہ یہ ممالک اپنے عمل سے نہ صرف فلسطین کے لیے علامتی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں بلکہ ان کے اس فیصلے سے جنگ بندی کے لیے شروع کیے گئے سیاسی عمل کو بھی مدد ملے گی۔
متعدد عرب ممالک کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی نگرانی کریں گے اور اس کی تعمیر میں بھی مدد کریں گے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بدلے میں مغربی دنیا فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کرے۔اس تناظر میں ناروے، آئرلینڈ اور سپین کے اس فیصلے کو ایک سفارتی قدم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس سے غزہ میں گراؤنڈ پر موجودہ صورتحال نہیں تبدیل ہوگی۔









