نئی (دہلی آر کے بیورو)
ایسا لگتا ہے کہ قومی راجدھانی میں تاریخی مقامات ،مساجد و مزارات پر ڈی ڈی اے کی ٹیڑھی نظر ہے آئے دن کسی مسجد،مزار کو نوٹس ملنے کی اطلاع آتی رہتی ہے خبر کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے آئی ایس بی ٹی بس ڈپو کے قریب سرائے کالے خان میں 40 سال پرانی فیضیاب مسجد اور مدرسہ، ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو تحفظ فراہم کیا۔جس کو منہدم کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا
مسجد انتظامیہ نے نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سنوائی کرتے ہوئے کورٹ نے سنوائی کی اگلی تاریخ مئی کے پہلے ہفتہ کی دی اور اس وقت تک ڈی ڈی اے کو بھی اپنے دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا۔ اگلی سنوائی تک ڈی ڈی اے کو پابند کیا کہ وہ کوئی کارروائی نہ کرے۔

دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز مسجد کے نگراں کی طرف سے سینئر وکیل فضیل احمد ایوبی کے ذریعے دائر درخواست پر یہ کارروائی کی۔ جسٹس سچن دتا نے مذہبی کمیٹی اور ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا۔ ڈی ڈی اے نے حصول کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے اس اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے جہاں وقف جائیداد واقع ہے۔
تاہم جسٹس دتا نے ڈی ڈی اے کو ایک ہفتے کے اندر جائیداد کے بارے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی۔ معاملہ 8 مئی کو اگلی سماعت کے لیے درج کیا گیا ہے، اس دوران مدعا علیہان کو مسجد کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب، مقامی پولیس حکام نے زبانی طور پر مسجد کے منتظمین اور نگراں کو اس ماہ کے شروع میں مسجد انہدام کے منصوبہ سے آگاہ کیا۔ اس کے جواب میں اس وقف املاک کے نگراں نے دہلی مذہبی کمیٹی کے چیئرمین اور دہلی وقف بورڈ کو خط بھیجے۔ خطوط میں جائیداد کی وقف کی حیثیت اور زمین کے ریکارڈ کو ثابت کرنے والی دستاویزات شامل تھیں۔ نگران نے انہیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے خبردار کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زمین پر قبضہ نہیں کیا گیا ہے اور مسجد ایک باقاعدہ رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے۔ مسجد کی عبادت گاہ کی حیثیت اس کے قیام کے بعد سے موجود ہے۔
دریں اثنا، جماعت اسلامی ہند (JIH) کے ایک وفد نے نوٹس کی اطلاع ملتے ہی سرائے کالے خان بس ڈپو میں واقع فیضیاب مسجد کا دورہ کیا تاکہ سوشل میڈیا پر وائرل مذہبی کمیٹی کے نوٹس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جائے۔ وفد نے مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور قانونی کارروائی میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وفد میں جے آئی ایچ کے سیکرٹری محکمہ وقف امور رفیق احمد، جے آئی ایچ کے اسسٹنٹ سیکرٹری انعام الرحمن وغیرہ شامل تھے وفد نے صورتحال کی تفصیلات اور مسجد کمیٹی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مساجد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی ذرائع استعمال کرنے کی وکالت کی ان کومعاملے سے قانونی سطح پر نمٹنے میں رہنمائی کی
انعام الرحمن نے روزنامہ خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی مساجد اور اسلامی یادگاروں کو ڈی ڈی اے اور دہلی کی مذہبی کمیٹی کے ذریعہ بار بار نشانہ بنانے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جو تشویشناک ہمیں ہمہ وقت بیداروچوکس رہنا ہوگا اس کام میں سول سوسائٹی اور ملت کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہوگی -دہلی ہائی کورٹ میں سامنے آنے والے ان کے مقدمات پر گہری نظر رکھی جائے گی۔ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے اور آئینی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ سے رجوع کیا جاتا رہے گا کیونکہ یہی انصاف کی آخری چوکھٹ ہے ،









