دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو 2020 کے دہلی فسادات میں مارے گئے 23 سالہ فیضان کے قتل کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔
واضح ہو فسادات کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں کچھ پولیس والے پانچ لڑکوں کو مارتے ہوئے اور ان سے قومی ترانہ گانے کے لیے کہہ رہے تھے۔ فیضان ان پانچ لوگوں میں سے ایک تھا۔
اس واقعے کے بعد انہیں دہلی کے جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں ایک دن کے لیے حراست میں رکھا گیا اور وہاں سے رہائی کے دو دن بعد یعنی 27 فروری 2020 کو ان کی موت ہوگئی۔
تاہم چار سال گزرنے کے بعد بھی اس معاملے میں نہ تو ان پولیس والوں کی شناخت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ فیضان کی والدہ قسمتن نے 2020 میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کا مطالبہ کیا۔
منگل کو ان کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے جانچ سی بی آئی کو سونپ دی اور ان سے جلد ہی جانچ شروع کرنے کو کہا۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے دہلی پولیس کو بھی پھٹکار لگائی۔
عدالت نے کہا کہ ‘اب تک کی تفتیش لاپرواہی پر مبنی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پولیس ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے’۔
اس سے قبل 2020 کے فسادات کے کئی معاملات میں مختلف عدالتوں نے دہلی پولیس کے کام کرنے کے انداز پر سخت تنقید کی تھی۔’۔
جسٹس انوپ بھمبھانی کی بنچ نے دہلی پولیس کے رویہ کی سخت مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی طرف سے پانچ لڑکوں کی پٹائی "مذہبی جنونیت سے متاثر تھی اور اس لیے اسے ‘نفرت انگیز جرم’ سمجھا جائے گا” اور اس پر مزید تیزی سے کارروائی کی جانی چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ تفتیش اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی جتنی توقع تھی۔
عدالت نے پولیس کے دلائل پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ فیضان کا اپنے طور پر تھانے میں رہنا جب اس کے اہل خانہ اسے تلاش کر رہے تھے تو یہ ایک عام آدمی کے رویے کے برعکس تھا۔
اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ پولیس اسے علاج کرانے کے بجائے تھانے کیوں لے گئی۔
عدالت نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کہ فیضان جس رات تھانے میں تھا اس کے بارے میں ابھی تک کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔
عدالت نے کہا، ’’ایسے اہم مواقع پر تھانے کے تمام سی سی ٹی وی کی ناکامی بھی اعتماد کا اظہار نہیں کرتی‘‘۔
"یہاں تک کہ یہ فرض کرتے ہوئے کہ کوئی حراستی تشدد نہیں ہوا، یہ سچ ہے کہ پولیس نے فیضان کو تھانے میں رکھا جب اسے واضح طور پر شدید طبی امداد کی ضرورت تھی۔ "ایسا کرنا بذات خود پولیس کی ڈیوٹی سے مجرمانہ غفلت تھی۔”عدالت نے کہا کہ کیس منتقل کرنا ضروری تھا کیونکہ واقعے کے ملزمان اسی محکمے سے تھےیہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی عدالت نے 2020 میں فسادات کی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کی سرزنش کی ہو۔ اس سے پہلے بھی ایسے کئی معاملے ہیں جن میں دہلی پولیس کو عدالت نے پھٹکار لگائی ہے۔
ستمبر 2021 میں دہلی کی ککڑڈوما عدالت میں جج ونود یادو نے تین لوگوں کو بری کرتے ہوئے تبصرہ کیا تھا، "جب تاریخ آزادی کے بعد دہلی میں ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ فسادات پر نظر ڈالے گی، تو تحقیقاتی ایجنسیوں کی ناکامی جمہوریت کے حامیوں کو نظر آئے گی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں سائنسی طریقہ کار کو کیسے استعمال نہیں کر سکیں۔
اگست 2023 میں فسادات کے معاملے میں تین لوگوں کو بری کرتے ہوئے، کرکاڈوما کی عدالت میں جج پلستیہ پرمچل نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ پولیس نے "شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور کیس کی صحیح طریقے سے تفتیش نہیں کی۔”فیضان کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ تاہم دہلی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ فروری تک انہوں نے 758 ایف آئی آر میں 2619 افراد کو گرفتار کیا ۔
منگل کو فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، قسمتن کی وکیل ورندا گروور نے کہا، "اس معاملے میں دہلی پولیس کا رویہ فساد کے دیگر مقدمات سے بالکل مختلف ہے۔ بہت سے معاملات میں پولیس نے کم ثبوت ہونے کے باوجود بہت جلد گرفتاریاں کی ہیں۔ فیضان پر حملے کی ویڈیو یہاں موجود ہونے کے باوجود کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ موثر تحقیقات کی جائیں۔ مجھے امید ہے کہ سی بی آئی منصفانہ اور پیشہ ورانہ طریقے سے تفتیش کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس گھناؤنے جرم کو انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔










