نئی دہلی :
گزشتہ سال شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد سے جڑے ایک معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پولیس پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو گونڈہ رہائشی کی اپیل پر کیس درج کرنے کو کہا تھا۔ اس شخص نے کہا تھاکہ فسادات کے دوران اس کی آنکھ میں گولی لگی تھی۔ دہلی پولیس نے ایف آئی آر رجسٹرار کرنے کے حکم کی مخالفت کی تھی۔
ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اس معاملے میں دہلی پولیس پر سخت تبصرہ کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا ،’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے ایک علیحدہ ایف آئی آر میں ملزمین کے بچنے کے لیے راستہ بنایا اور تکلیف دہ بات ہے کہ پولیس افسران اپنی جانچ کے دوران آئینی فرائض اداکرنے میں فیل ہو گئے ۔
بتادیں کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال 24 فروری کو فسادات پھوٹ پڑے تھے ۔ اس میں 53 لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔ پولیس نے اس معاملے میں 751 ایف آئی آر درج کی ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے بھجن پورہ پولیس پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانے ایس ایچ او اور دیگر سینئر افسران پر عائد کیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے اس آرڈر کی کاپی پولیس کمشنر کو بھجوا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ اور نگرانی کی سطح پولیس کمشنر کی نظر میں بھی آنا چاہئے۔ پولیس جانچ مضحکہ خیز رہی۔ عدالت نے پولیس کمشنر سے کہاکہ اس معاملے کو دیکھتے ہوئے اصلاحی قدم اٹھائے جائیں۔
اکتوبر 2020 میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے دہلی پولیس سے کہا تھاکہ محمد ناصر کی شکایت پر 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کی جائے۔ ناصر نے اپنی شکایت میں کہا تھاکہ 24 فروری 2020 کو اس کے اوپر فائرنگ کی گئی۔ ایک گولی اس کی بائیں آنکھ میں لگی تھی۔ ناصر نے اپنی شکایت میں نریش تیاگی، سبھاش تیاگی، اتم تیاگی، سشیل ، نریش گور اور دیگر لوگوں کو ملزم بنایا تھا۔ اس کے باوجود جب کوئی ایف آئی آر نہیں درج کی گئی تو ناصر کورٹ پہنچا تھا۔
اے ایس جے ونود یادو نے اپنے حکم میں کہا کہ ناصر کے ساتھ واقعہ 24 فروری کی شام کوشمالی گونڈہ میں پیش آیا تھا ، لیکن دہلی پولیس نے 25 فروری کو موہن پور ، موج پور کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی ۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے 7 لوگوں کے بارے میں جانچ ایجنسی کو جانکاری تھی، لیکن پھر بھی ایف آئی آر درج کرتے وقت آئی پی سی کی دفعہ 307 اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 25 نہیں لگائی گئی۔
عدالت میں پولیس نے کہا تھا کہ دہلی فسادات کے معاملے میں پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ اس میں ناصر کے علاوہ 6 دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بات درج ہے ۔ جن لوگوں کا نام ناصر نے اپنی شکایت میں لکھا ہے، ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیںملا ہے ۔ نریش اور اتم تو اس وقت دہلی میں ہی موجود نہیں تھے اور سشیل اپنے دفتر میں تھا۔
ناصر کے وکیل محمود پراچہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ دہلی پولیس کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر میں ناصر کی شکایت پر توجہ نہیں دی گئی۔ پراچہ نے کہا تھا کہ ناصر کی شکایت پر الگ ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے ، کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس پر قانون بنایا ہے۔











