نئی دہلی :(ایجنسی)
ہنومان جینتی پر دہلی کے جہانگیر پوری میں ہنگامہ ہو ا ہے۔ شرپسندوں نے کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کردی اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہنومان جینتی کے موقع پر جب جلوس نکالا جا رہا تھا تو یہ تشدد شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ موقع پر پہنچی پولیس پر بھی حملہ کیا گیا۔
اس وقت کشیدگی کا ماحول ہے اور جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں افراتفری کا ماحول دیکھا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی تو ان پر بھی شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس وقت پولیس اس واقعہ پر کچھ بھی کہنے سے گریز کررہی ہے۔
آج تک کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے پولیس کمشنر سے بات کی گئی تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ سب کچھ قابو میں ہے اور اس تشدد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ہر جگہ فورس بڑھا دی گئی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پتھراؤ کے ساتھ دو سے تین راؤنڈ گولیاں بھی چلائی گئیں۔ اسی فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار کو گولی لگی اور کچھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو قریبی بابو جگجیون رام اسپتال لے جایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ پولیس فورس موقع پر موجود ہے اور موقع پر ماحول کو سنبھالنے کے لیے دیگر دستے بھیجے جا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے۔
اس پورے واقعہ پر بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے بیان دیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں ہنومان کی یوم پیدائش پر پتھراؤ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کی بستی اب ہندوستان کے شہریوں پر حملہ کرنے کی جسارت کر رہی ہے۔ اب ضروری ہو گیا ہے کہ غیر قانونی دراندازوں کو ہر ایک کے کاغذات چیک کر کے ملک سے نکالا جائے۔
وہیں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تشدد کے بعد امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کو امن برقرار رکھنا ہوگا۔ امن بنائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، تمام لوگوں کو امن قائم کرنا ہوگا، نظم و نسق برقرار رکھنا ہوگا۔ ضرورت پڑی تو ایجنسی ہے، پولیس ہے، جس کی ذمہ داری ہے۔ دہلی میں امن و امان قائم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں عوام سے بھی امن برقرار رکھنے کی اپیل کروں گا۔










