اتر پردیش کے اعظم گڑھ لوک سبھا حلقہ میں چھٹے مرحلے میں یعنی 25 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس سیٹ سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار دھرمیندر یادو ہیں ۔
بی جے پی نے اس سیٹ پر موجودہ ایم پی دنیش لال یادو عرف ‘نیرہوا’ کو میدان میں اتارا ہے۔
اعظم گڑھ ہمیشہ سوشلسٹوں کی حمایت کا مرکز رہا ہے۔ بہر حال دھرمیندرا یادو کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن پورے ملک کا الیکشن ہے۔ جب یہ الیکشن شروع ہو رہا تھا تو شاید میڈیا والے بھی بھاپ اکٹھا نہیں کر پا رہے تھے۔ اتر پردیش کی بات کریں تو یہاں کا میڈیا بھی اپوزیشن کو زیادہ سیٹیں دینے کو تیار نہیں تھا۔ کچھ چینلز 7 سیٹیں دکھا رہے تھے، کچھ 12، اور کچھ میڈیا والے اپوزیشن کے کھاتے میں صرف 4 سیٹیں دکھا رہے تھے۔ کوئی بھی اپوزیشن کو سنگل ہندسوں سے اوپر کی سیٹیں دینے کو تیار نہیں تھا۔ جو لوگ 400 پارکرنے کا نعرہ لگا رہے تھے وہ 200 سے نیچے آ جائیں گے۔ 10 سال بعد بھی ان کا رپورٹ کارڈ صفر ہے۔ 10 سال میں 20 کروڑ نوکریاں ہونی تھیں لیکن آج روزگار کی شرح سب سے کم ہے۔ کسانوں نے اب سب سے زیادہ خودکشی کی ہے۔ یہاں تک کہ فوجی بھی اگنی ویر کے منصوبے سے مطمئن نہیں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گٹھ بندھن اتنی سیٹیں لائے گا کہ بی جے پی والی حیرت زدہ رہ جائیں گی ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ آسانی سے جیت رہے ہیں اور ایس پی بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی -دھرمیندر نے اسی کے ساتھ کہا کہ اگلا وزیراعظم وہ بنے گا جس کو اکھلیش چاہیں گے –
ان کے دعوت کہاں تک درست ہیں یہ چار جون کے بعد ہی پتہ چلے گا.









