ممبئی۔ پربھاس، کریتی سینن، سیف علی خان کی فلم ‘آدی پروش’ تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ فلم کی ڈائریکشن اور ڈائیلاگ دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فلم کے ڈائیلاگ سے ناراض ایودھیا کے سنتوں نے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب سنتوں نے فلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔باوجود اس کے کہ ڈائیلاگ رائٹر اور ہندوتووادی منوج منتشر نے متنازع ڈائیلاگ نکالنے کا اعلان کردیا ،حالانکہ پہلے بہت اکڑ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ رام مخالفوں سے برداشت نہیں ہورہا ہے ۔اب تو خود سنت سادھو میدان میں آگیے ہیں۔اس سے قبل سنتوں نے فلم کے ٹیزر میں نظر آنے والی بعض باتوں کو قابل اعتراض بتایا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلم میں ‘رامائن’ کے کرداروں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور ہندو دیوتاؤں کو توڑ مروڑ کر دکھایا گیا ہے۔
رام جنم بھومی کے ہیڈ پجاری آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ پہلے احتجاج کے باوجود فلم سازوں نے رامائن کے کرداروں کو غلط طریقے سے پیش کیا ہے اور ہندو دیوی دیوتاؤں کو مسخ کر کے دکھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فلم کے ڈائیلاگ شرمناک ہیں اور فلم پر فوری پابندی لگائی جائے‘۔
ستیندر داس نے کہا، ’’بھگوان رام، بھگوان ہنومان اور راون کو بالکل مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہمارے دیوتاؤں کو فلم میں بالکل مختلف شکل میں دکھایا گیا ہے، جسے ہم نے اب تک پڑھا اور جانا ہے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کے مشہور ہنومان گڑھی مندر کے پجاری راجو داس نے بھی فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔







