حماس کے پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، جنہیں 31 جولائی کو تہران میں قتل کر دیا گیا تھا، تنظیم کے سپریم گائیڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ جب وہ 2022 میں اس عہدے پر دوسری مدت کے لیے انتخاب ہوئے تو ان کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔
تاہم گزشتہ 10 مہینوں کے دوران سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے وہ اکثر ایک "پوسٹ مین” کی طرح نمودار ہوئے تھے۔ قیادت کی توجہ غزہ پر مرکوز ہو گئی اور ھنیہ قطر سے سیاسی ونگ چلا رہے تھے۔ ویب سائٹ "اکانومسٹ” پر شائع ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق جنگ جاری رکھنے یا جنگ بندی کا فیصلہ دراصل حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ہاتھ میں ہے جس کی قیادت یحییٰ سنوار کر رہے ہیں۔
فیصلے میں غلطی؟
حماس کے رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات کے حامل فلسطینی صحافی محمد دراغمہ نے وضاحت کی ہے کہ تحریک کے رہنماؤں نے محسوس کیا ہے کہ سات اکتوبر ایک غلط تخمینہ تھا۔ انہوں نے استفسار کہ کیا تحریک کا اگلا لیڈر اس سے اتفاق کرے گا ؟۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ حماس میں زیادہ عملی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اکتوبر کے اس حملے کے فیصلے نے ریاست کی تعمیر کی دو دہائیوں کو ضائع کر دیا ہے۔
دراغمہ کے مطابق ھنیہ کے قتل سے حماس کے اندر ایک تنازع پیدا ہونے کا امکان ہے جو اس کے مستقبل اور خود فلسطین کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔
سات اکتوبر کا جائزہ
بہت کچھ اس بات پر بھی منحصر ہو گا کہ حماس غزہ جنگ کا دوبارہ جائزہ کیسے لیتی ہے۔ ان میں سے پہلے گروپ میں لوگ سنوار کے حامی ہیں اگرچہ تحریک کے اندر کچھ لوگ اب بھی سات اکتوبر کو فوجی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
دراغمہ نے مزید کہا کہ عملیت پسندوں کو افسوس ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ان کے عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ سات اکتوبر تک کے عرصے میں غزہ میں زیادہ تر فلسطینی شاذ ونادر ہی صحت مند تھے۔ لیکن ان کی زمین کی چھوٹی سی پٹی پر نئی سڑکیں اور سیرگاہیں کھل گئی تھیں۔ اسرائیل نے 15 برس سے زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ ہزاروں مزدوروں کو غزہ سے واپس آنے کی اجازت دے دی تھی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ کے زیادہ تر بے گھر اور بھوکے رہنے والے اب حماس سے نفرت کر رہے ہیں کیونکہ ان میں مرنے والوں کی تعداد 40 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ ہلاکتیں نکبہ یا 1948 کی تباہی میں ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس دوران غزہ کے نشانات ملبے کے ڈھیر بن گئے۔
حماس کی حمایت میں کمی؟
جون کے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کی حمایت مغربی کنارے میں 39 فیصد کے مقابلے میں 5 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جب جنگ رک جائے گی تو حماس اور غزہ کے محصور عوام دونوں ایک نئی قسم کا لیڈر چاہتے ہوں گے۔ اکانومسٹ کے مطابق ھنیہ کی جگہ لینے کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ امیدواروں میں خلیل الحیا بھی شامل ہیں۔
یحییٰ سنوار کے قریب ترین امیدوار محمد علی ہنیہ ہیں اور انہوں نے حماس کو غیر مسلح کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ دوسرے امیدواروں میں نزار عوض اللہ ہیں جو حماس کے آغاز سے ہی ان لوگوں کے پیرو کار ہیں جو تحریک کی قیادت کے لیے سنوار کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔
سب سے مضبوط امیدوار خالد مشعل ہو سکتے ہیں جنہوں نے 2017 تک تحریک کی سربراہی کی ہے۔ اس کے بعد سنوار نے انہیں پسماندہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا القسام بریگیڈز اس سے اتفاق کریں گے۔ جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنے کی امید رکھنے والوں کو القسام کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔ لیکن غزہ کے زیادہ تر لوگ امداد اور تعمیر نو کے لیے ترس رہے ہیں۔










