بنگلادیشی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیاں کردی گئیں۔ یہ تبدیلیاں آرمی چیف کی جانب سے کی گئی ہیں۔ خبر ہے کہ شیخ حسینہ کے حامی فوجی عہداروں کو غیر اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا جبکہ ایک جنرل کو سبکدوش کردیا
مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیشی فورسز کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میجر جنرل ضیاء الاحسن کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد سیف الاسلام کو وزارت خارجہ میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل محمد مجیب الرحمان کو جی او سی آرمی ٹریننگ اینڈ ڈاکٹرائن کمانڈ تعینات کردیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد تبریز شمس چوہدری کو کوارٹر ماسٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل میزانور شمیم کو چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد شاہین الحق کو کمانڈنٹ این ڈی سی اور میجر جنرل اے ایس ایم رضوان الرحمان کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر (این ٹی ایم سی) کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
ڈھاکا کی عدالت نے کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے ایک ہزار سے زائد بنگلادیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنان کو ضمانت پر رہا کردیا۔
رہائی پانے والوں میں بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر امیر خسرو محمود چوہدری بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دی گئی تھی جس پر سماعت کے بعد جج نے انہیں ضمانت دے دی۔
ضمانت پر رہا ہونے والوں میں بی این پی کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل روح الکبیر رضوی، جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار، بی این پی چیئرمین کے خصوصی معاون شمس الرحمان المعروف شمول بسواس، ڈھاکا میٹروپولیٹن شمال بی این پی کے کنوینر سیف العالم نیراب، جنوب کے کنوینر رفیق الاسلام مجنوں شامل ہیں۔
اسی طرح 12 جماعتی اتحاد کے کوآرڈینیٹر ایڈووکیٹ سید احسن الہدیٰ، بی این پی کے پبلسٹی سیکریٹری سلطان صلاح الدین ٹکو، ڈھاکا میٹروپولیٹن شمال کے ممبر سیکریٹری امین الحق، بگیرہٹ ضلع بی این پی کے کنوینر ایم اے سلام اور بی این پی کے جوائنٹ سکریٹری بھی شامل ہیں










