ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے لوہارو میں 16 فروری کو جلی ہوئی بولیرو میں ملے دو کنکال.( باقیات) جنید اور ناصر کے تھے۔ اب فارنسک تحقیقات سے بھی اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق راجستھان پولیس کے ایک افسر نے یہ جانکاری دی ہے۔ بولیرو میں پائے جانے والے کنکال کے علاوہ جیندکی ایک گئوشالا میں پائے گئے اسکارپیو میں خون کے دھبے کی ڈی این اے رپورٹ بھی میچ کر گئی ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ جنید اور ناصر کو اغوا کرکے اس اسکارپیو میں لایا گیا تھا۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق بھرت پور رینج کے آئی جی گورو شریواستو نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے فارنسک نمونے لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناصر اور جنید کے اہل خانہ کے خون کے نمونے بھی لیے گئے تاکہ ایس یو وی میں پائے جانے والے خون کے دھبے اور جلی ہوئی گاڑی سے ملنے والی ہڈیوں کو ملایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اب رپورٹ سے دونوں لاشوں کی شناخت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران جیند میں ایس یو وی ملی جس میں متاثرین کو اغوا کرکے مارا پیٹا گیا تھا۔ ہماری ٹیمیں ہریانہ میں ڈیرے ڈال رہی ہیں اور ملزمان کو پکڑنے کے لیے ہریانہ پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔








