1978 میں جب شرد پوار پہلی بار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنے تو مرار جی دیسائی ہندوستان کے وزیر اعظم تھے۔ راجیو گاندھی انڈین ایئر لائنز کے پائلٹ تھے، نریندر مودی سنگھ کے پرچارک تھے اور راہل گاندھی ابھی جونیئر اسکول میں تھے۔ پوار کے پاس ہمیشہ ممبئی یا دہلی کے پاور ہاؤس کے آس پاس رہنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس ایک اور جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے؟
اجیت کی بغاوت ان کی خودمختاری کا اعلان ہے، لیکن انہیں پھر بھی مہاراشٹر میں عوامی جلسوں میں اپنے چچا کی لائف سائز تصاویر دکھانی پڑتی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں ان کی مقبولیت ابھی تک محدود ہے۔ درحقیقت، شرد پوار کے تجارتی مفادات مہاراشٹر کے خوشحال کوآپریٹو گروپس اور اس کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مضمر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پوار خاندان نہ صرف ایک سیاسی خاندان ہے، بلکہ ایک مشترکہ خاندانی کاروبار بھی ہے۔
2019 میں، جب شرد پوار حکومت سازی پر بات چیت کے دوران آخری وقت میں بی جے پی سے الگ ہو گئے، مودی اور شاہ نے اسے وشواس گھات سمجھا۔ مودی کے پوار کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔
انہوں نے کئی بار عوامی سطح پر ان کی تعریف کی اور 2017 میں انہیں پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا۔ گوتم اڈانی دونوں کے مشترکہ دوست ہیں۔ مودی کے کہنے پر بی جے پی نے پچھلی دہائی میں تین بار این سی پی کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ مہاراشٹر میں شیو سینا اور این سی پی آر کے ٹوٹنے نے اس ریاست کے سیاسی محور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بی جے پی ابھی تک مہاراشٹر میں اپنی بالادستی قائم نہیں کر پائی تھی۔ انتخابات سے پہلے مہاراشٹر میں ان کی سرگرمی بہت کچھ بتاتی ہے۔
(ہنوستان ٹائمس میں شائع مضمون کا اختصار)







