دوحہ (ڈی ڈبلیو)افغانستان کے معاملے پر دوحہ میں اقوام متحدہ کی طرف سے ہونے والی دو روزہ سربراہی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی اس ملاقات میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کوئی اعلان سامنے نہیں آیا
افغانستان کے موضوع پر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پیر یکم مئی سے شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کوئی اعلان تو سامنے نہیں آیا مگر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس حوالے سے مستقبل میں ایک اور میٹنگ منعقد کی جائے گی۔
اس میٹنگ کے آغاز سے قبل انسانی حقوق کے کارکنوں اور گروپوں کو یہ تشویش تھی کہ دوحہ سربراہی کانفرنس میں عالمی برادری طالبان کے ساتھ انہیں تسلیم کرنے کے کسی معاہدے تک پہنچ سکتی ہے اس کے باوجود کہ خواتین ابھی تک اپنی حقوق سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی جسے اس عالمی ادارے نے ایک ایسی ملاقات کا نام دیا تھا جس میں عالمی اقوام اور ادارے افغانستان سے متعلق انسانی حقوق، گورننس، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات سے متعلق کوششوں کے حوالے سے ایک مشترکہ نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی جائے گی۔







