ایم ایس سوامی ناتھن کو بھارت رتن سے نوازنے کی خوشی میں منگل کو انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IARI) میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اسی پروگرام میں سوامی ناتھن کی بیٹی ماہر اقتصادیات مدھورا سوامی ناتھن نے احتجاجی کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روکنے کی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سائنسدانوں کو کسانوں سے بات چیت کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ ان کا یہ بیان آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ مدھورا نے کہا ’’پنجاب کے کسان دہلی کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ہریانہ میں ان کے لیے جیلیں تیار کی جا رہی ہیں، وہاں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، انھیں روکنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ کسان ہیں، یہ مجرم نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں آپ سب سے، ہندوستان کے سرکردہ سائنسدانوں سے درخواست کرتی ہوں… ہمیں اپنے کسانوں سے بات کرنی ہے۔ ہم ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کر سکتے۔ ہمیں حل تلاش کرنا ہوں گے۔”
مدھورا سوامی ناتھن نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا- "براہ کرم، یہ میری درخواست ہے۔ میرے خیال میں اگر ہمیں ۔M.S. کو عزت دینی ہےتو کسانوں کی ان کی عزت و تکریم کرنی چاہیے۔ اس لیے ہم مستقبل کے لیے جو بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں، ہمیں کسانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔
کسانوں نے دہلی چلو کا نعرہ لگایا، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور فصلوں کے لیے قرض معافی کا مطالبہ کیا۔ ہریانہ کی سرحد پر پولیس نے منگل کے روز احتجاج کرنے والے کسانوں پر آنسو گیس فائر کی اور دارالحکومت میں پولیس نے کسانوں کو وہاں پہنچنے سے روکنے کے لیے استرا کے تار، کنکریٹ کے بلاکس اور باڑ کا استعمال کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ شمبھو بارڈر پر کچھ کسانوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ یہ پیش رفت وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے چند دن بعد ہوئی ہے کہ مرکزی حکومت نے … سوامی ناتھن کو بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازا۔ سوامی ناتھن کو زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ انہیں سبز انقلاب کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔







