پاکستان کو خفیہ معلومات دینے کے الزام میں گرفتار ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے سائنسدان پردیپ ایم کرولکر کو جمعہ کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے یہ قدم پاکستانی جاسوسوں کو معلومات لیک کرنے کے معاملے میں تحقیقات کے بعد اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سائنسدان کو 9 مئی تک اے ٹی ایس کی تحویل میں بھیج دیا۔
نیوز١٨ کے مطابق ڈی آر ڈی او کے ایک عہدیدار نے جمعہ کو بتایا، ہماری جانچ میں یہ ثابت ہونے کے بعد کہ وہ حساس معلومات لیک کررہے تھے، سائنسداں کو تجربہ گاہ کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ ان کے خلاف دیگر ایجنسیوں سے معلومات ملنے کے بعد ڈی آر ڈی او نے جانچ شروع کی تھی۔ انہیں دوسرے آفس سے اٹیچ کیا گیا تھا۔
ہنی ٹریپ کا معاملہ، سال 2022 سے ہی رابطے میں تھا۔
نیوز١٧کا کہنا ہے کہ 2022 سے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنٹوں کے ساتھ کرولکر رابطے میں تھا۔ کرولکر کو مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پونے سے گرفتار کیا تھا۔ ہنی ٹریپ میں پھنس کر خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کا یہ معاملہ ہے۔ پاکستان کی خاتون انٹیلی جنس ایجنٹ نے ملزمان سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا تھا جس کے بعد سے وہ واٹس ایپ میسجز اور ویڈیو کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھیں۔ اے ٹی ایس افسر کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران کرولکر نے اعتراف کیا کہ اس نے خاتون کے ساتھ ویڈیو چیٹ کی تھی







