نئی دہلی :(ایجنسی)
پام آئل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا کے برآمد پر پابندی لگانے کے اعلان کے بعد دنیا میں اس سب سے زیادہ استعمال ہونے والے خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے مستقبل میں مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے ۔ انڈونیشیا کی جانب سے فیوچر ٹریڈنگ میں ایکسپورٹ پر پابندی کے اعلان کے بعد پام آئل 6 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔
وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہندوستان میں پام آئل کی قیمتوں میں مزید 10 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پام آئل کی قیمتیں بڑھنے سے دیگر ریفائنڈ آئل بھی متاثر ہوں گے۔ پام آئل سمیت دیگر خوردنی تیل پہلے ہی بہت مہنگے ہو چکے ہیں۔ کنزیومر پرائس انڈیکس ڈیٹا (سی پی آئی) ظاہر کرتا ہے کہ سال در سال کی بنیاد پر مارچ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ وہیں مالی سال 2021-22 میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 27.4 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اتل چترویدی کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے برآمدات پر پابندی لگانے سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی بڑھی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان کا خوردنی تیل کا درآمدی بل 72 فیصد بڑھ گیا ہے۔ ہندوستان نے مالی سال 2022 میں خوردنی تیل کی درآمد پر 1.4 لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جبکہ پچھلے سال کے 82,123 کروڑ روپے خرچ کئے تھے۔
انڈونیشیا دنیا بھر میں پام آئل کی 60 فیصد سپلائی کرتا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اپنی ضرورت کا زیادہ تر پام آئل درآمد ہی کرتے ہیں۔ پام آئل سویا بین اور سورج مکھی کے تیل سے بہت سستا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اس کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ پام آئل دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خوردنی تیل کی کل کھپت میں اس کا حصہ 40 فیصد ہے۔










