اردو
हिन्दी
جولائی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تعلیمی حقوق اور روہت ویمولا کی شہادت

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تعلیمی حقوق اور روہت ویمولا کی شہادت
58
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ابھے کمار

روہت ویمولا کی شہادت کو چھ سال ہوگئے۔محض 26 سال کی عمر میں حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کا یہ طالب علم اس دنیا کو چھوڑ کر چل بسا ۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ پی ایچ ڈی اسکالر روہت نے خود کشی کی تھی ۔ بعض تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی خودکشی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روہت مرا نہیں ، بلکہ اسے مرنے کے لیے مجبورکیا گیا تھا۔ زندگی جب ہر موڑپر امتیاز، تعصب اور ذلت کا سامنا کرنے لگتی ہے اور انصاف کے لیے کی گئی ساری فریادوں کو اَن سُنا کر دیا جاتا ہے، تب تھکی ہاری زندگی بعض اوقات موت کی پناہ لے لیتی ہے۔ شاید کچھ ایسی ہی دردناک داستان روہت کی بھی ہے۔

روہت کی پیدائش 30 جنوری 1989کو آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میں ہوئی۔ یہ علاقہ خلیج بنگال سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ان کی والد ہ کا نام رادھیکا ویمولا ہے، جو کہ محکوم طبقہ سے آتی ہیں۔ روہت کی زندگی جدو جہد اور دشواریوں سے بھری پڑی ہے۔ لمبے سفر کے بعد اس نے اپنا داخلہ حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں لیا۔ پڑھائی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سماجی اور سیاسی مسائل پر کھل کر بولتا تھا۔ اس کا رشتہ امبیڈکر کے نظریہ کی حامل طلبہ تنظیم سے تھا۔ یہ سب باتیں انتظامیہ اور بھگواار باب اقتدار کو پسند نہیں تھی اور وہ روہت کو خاموش کرنے کے لیے طرح طرح سے پریشان کرنے لگے۔ روہت کی اسکالر شپ کو بھی روک دیا گیا اور ان کو ہر طرح سے اذیت دی گئی۔ حالانکہ ظلم اور زیادتی کے خلاف روہت نے بڑی لڑائی لڑی، مگر اس کا ساتھ دینے کے لیے تمام اداروں نے اپنے دروازہ بند کر لیے۔

در اصل روہت کی داستان صرف روہت کی نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت کے کروڑوں محکوم طبقات کے طلبہ کی دردناک کہانی ہے۔ جو کوئی بھی طالب علم کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ لینے، امتحان پاس کرنے ، ہاسٹل اور ٹیوشن فیس ادا کرنے کے لیے لڑتا ہے، وہ سب روہت کی کہانی میں کردار ہیں۔ جو کوئی بھی پڑھائی کو صرف کلاس روم تک ہی محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے اپنی زندگی میں عملی طور پر اتارنا بھی چاہتا ہے وہ سب روہت ویمولا کی کہانی میں شامل ہے۔ بھارت میں جمہوری نظام کو ہمارے ارباب اقتدار نے اپنا تو لیا ہے، مگر اسے انہوں نے اپنے دلوں میں تارا نہیں ہے۔ بھارت کے تعلیمی اداروں میں آج بھی مٹھی بھر بڑی ذات کا ہی قبضہ ہے ، جبکہ محکوم طبقات سے آنے والے طلبہ کو ہر روز روہت کی طرح ستایا جاتا ہے۔ ساری ناانصافی اور آئین مخالف کاموں کو میرٹ کے نام پر چھپا لیا جاتا ہے۔ بھارت میں انقلاب صرف پارلیمنٹ پر قبضہ جما لینے سے نہیں پورا ہونے والا ہے۔ دراصل سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی اور تعلیمی حلقوں میں بھی کام کرنے کی ضرور ت ہے۔ مگر افسوس کہ یہ بات محکوم طبقات کے زیادہ تر سیاسی لیڈروں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ کوئی بھی مثبت بدلاؤ بغیر سماج بدلے نہیں آ سکتا۔ سماج کو بدلے کے لیے یہ ضروری ہےکہ ہم اچھی سوچ کو پیدا کریں۔ اچھی سوچ کے لیے اچھے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بھارت کے زیادہ تر تعلیمی اداروں میں عالیٰ ذاتوں کا قبضہ بنا ہوا ہے، جو یہ نہیں چاہیے کہ جن کو انہوں نے صدیوں سے محکوم بنا کر رکھا ہے وہ علم کی شمع جلا کر بیدار ہو جائیں۔

مگر جب روہت جیسے بہادر طالب علم تمام مشکلوں کو پار کر کے یونورسٹی میں پہنچے ہیں تو ان کو پریشان کرنے کے کیے ارباب اقتدار کی لابی ہر کوشش کرتی ہے۔ ان کو طرح طرح سے سسٹم چھوڑ کر بھاگ جانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔مرنے سے پہلے جو خط روہت نے چھوڑا اس میں انہوں نے ذات پر مبنی بھیدبھاو ٴ کا ذکر کیا ہے اور کہا کہ کہ کس طرح سے انسان کو اس کی ذات ،نسل، مذہب اور دیگر تشخص تک لا کر محدود کر دیا جاتا ہے۔ کبھی انسان کی صلاحیت اور اس کی قابلیت کو کھلے من سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ذات برادری کے اس نظام میں ترقی اس بات سے نہیں ملتی کہ فلاں نے کیا کام انجام دیا ہے ، بلکہ پزیرائی اس بات سےہوتی ہے کہ کہنے والے کی ذات اور دھرم کیا ہے۔

ناانصافی دیکھیے کہ آج کی تاریخ میں بھی تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں دلت ، آدی واسی اور پچھڑہ کو حق نہیں مل پایا ہے۔ مثال کے طور پر مرکزی یونیورسٹی میں پچھڑے سماج کے پروفیسر ندارد ہیں۔ اعلیٰ ذات کی لابی ایک کے بعد ایک سازش رچ کر محکوموں کو اُن کے آئینی حقوق سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اعلیٰ ذات ن نجکاری کی پالیسی اپنا کرسرکاری اداروں کو اپنے ایجنٹوں کو بیچ رہی ہے۔ نجی کاری کی وجہ سے ریزرویشن پر بڑی مار پڑتی ہے کیونکہ پرائیویٹ اداروں میں ریزرویشن نافذ نہیں ہوتا ہے۔ جو سرکاری اداریں بچے ہیں، وہاں بھی زیادتاں ترنوکریاں ٹھیکا پر دی جا رہی ہے، جہاں ریزرویشن نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں میں فیس بڑھا کر محکوم طبقات کو باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر غریب لوگ دلت، آدی واسی، پچھڑا اور مسلمان ہیں۔ پھر انٹرویو کے دوران محکوم طبقات کے امیدواروں کو دانستہ طور پر بہت ہی کم نمبر دیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں جنرل کیٹیگری کی تمام سیٹوں کو،جن پر سب کا حق ہے، صرف اعلیٰ ذاتوں کی جاگیر بنا دی گئی ہے۔ کئی بار دلت ، آدی واسی امیدوار جنرل کیٹیگری میں انٹرویو دینے جاتا ہے تو اس کو انٹریو دینے سے پہلے کئی اعتراضات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلمانوں کی حالت تو سب سے زیادہ خراب ہے۔ اگر مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو او بی سی ریزرویشن میں شامل نہیں کی جاتی اور اے ایم یو اور جامعه ملیہ اسلامیہ جیسے تعلیمی ادارے نہیں ہوتے تو آج کالج اور یونیورسٹی میں مسلمان چراغ لے کر ڈھونڈھنے سےبھی نہیں ملتے بھید بھاؤ صرف ریاستی یونیورسٹی میں نہیں ہو رہا ہے، بلکہ ملک کے معزز اور موقر کالج، یونیورسٹی اور تحقیقی اداروں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حال کے دونوں میں دہلی میں واقع جے این یو میں محکوم طبقات کے طلبہ کو پی ایچ ڈی انٹرویو کے دوران بہت ہی کم نمبر دے کر داخلہ پانے سے روک دیا گیا، جبکہ پریاگ راج میں واقع جی بی پنت انسٹی ٹویٹ میں جنرل کیٹیگری کے امیدوار کو منتخب کر لیا گیا، جبکہ او بی سی امیدوار کو ساری ڈگری اور لیاقت کے باوجود بھی نا اہل قرار دے دیا گیا۔

اس ظلمت کے دور میں روہت کی لڑائی اور قربانی ہمیں راستہ دکھا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں غیر برابری ، ناانصافی اور تعصب کا گورکھ دھندا چلتا رہےگا، تب تک روہت کو یاد کیا جائے گا۔ جب تک ذات پر مبنی بھید بھاؤ کا شیطانی راج قائم رہےگا، تب تک مظاہرین کے زبانوں پر روہت ویمولا زندہ باد کے نعرے میں گونجتے رہیں گے۔

(مضمون نگار جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN