نئی دہلی :(ایجنسی)
راہل گاندھی نے انتخابات کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو لے کر مودی حکومت پر طنز کیا ہے۔ ان کا طنزعام طور پر اس کو لے کر ہے کہ جب انتخابات نہیںہوتے ہیں تو سرکار پٹرول -ڈیزل کےدام بڑھا دیتی ہے ،لیکن الیکشن کے دوران ایسا کرنے سے وہ کتراتی ہے ۔
انتخابات کی وجہ سے گزشتہ چار ماہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ جب یوپی میں ساتویں مرحلے کی پولنگ 7 مارچ کو ختم ہو جائے گی تو ان کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس پر راہل گاندھی نے طنز کیا ہے کہ ’’مودی حکومت کی ’انتخابی‘آفر ختم ہونے والی ہے۔‘‘
ملک میں ڈیزل-پٹرول کی قیمتیں 4 ماہ سے زیادہ یعنی 100 دن سے بھی زیادہ وقت سے نہیں بڑھی ہیں۔ جبکہ اس عرصے کے دوران بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 85 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوگئی ہے۔فی بیرل 1 ڈالر سے بھی کم کے اضافے ہونے پر بھی ڈیزل -پٹرول کی قیمت بڑھانے والی ہندوستانی تیل کمپنیاں تقریباً 30ڈالر یعنی 35 فیصد اضافے کےبعد بھی قیمت کیوں نہیں بڑھا رہی ہے؟ آخر وہ نقصان کیوں برداشت کررہی ہیں؟
اس سے پہلے 2 نومبر کو ملک میں ڈیزل-پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس دن پٹرول کی قیمت میں لگاتار ساتویں دن اضافہ ہوا تھا اور دہلی میں پٹرول 110.04 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 98.42 روپے پر پہنچ گیا تھا۔اسی دن 13 ریاستوںمیں ضمنی الیکشن کے نتائج آئے تھے ۔ وہ نتائج کے بی جے پی کے لئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں تھے۔ اور پھر 3 نومبر کو مرکزی سرکار نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ کیا۔
مودی حکومت نے 3 نومبر کو فیصلہ کیا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی 5 روپے اور 10 روپے کم کرے گی اور یہ فیصلہ دیوالی کے دن لاگو ہوگا۔ یہ بھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش تھی کہ ٹیکس پر حکومت کا کنٹرول ہے، اس لیے وہ اسے کم کر رہی ہے اور تیل کی قیمت طے کرنا تیل کمپنیوں کے ہاتھوں میں ہے۔
لیکن حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا واقعی تیل کی قیمتیں حکومتی آئل کمپنیوں کے ہاتھ میں ہیں؟ آخر آئل کمپنیوں کی کیا مجبوری ہے کہ انہوں نے 4 ماہ سے خسارے میں رہتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔
یہ وہی آئل کمپنیاں ہیں جنہوں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بہت کم ہونے کے بعد بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی اور بعض اوقات معمولی حد تک ہی کر ڈالی۔
گزشتہ سال فروری میں فنانشل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کے ساڑھے چھ سالہ دور میں خام تیل یعنی کچے تیل کی قیمتیں تقریباً 40 فیصد گھٹ گئی تھیں۔ جنوری 2020 میں ایک لیٹر کچا تیل 28.84روپے فی لیٹر تھا، تب دہلی میں ایک لیٹر پٹرول 77.79روپے کا تھا۔ جبکہ جنوری 2021 میں ایک لیٹر کچا تیل سستا ہو کر 25.20روپے کا تھا تو ایک لیٹر پٹرول 87 روپے سے زیادہ ہو گیا تھا۔
اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب قیمتیں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے طے ہوتی ہیں تو کچے تیل کے دام کم ہونے کے بعد بھی ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہوئی تھیں؟
اور اب جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے تو اب قیمتیں کیوں نہیں بڑھ رہی ہیں؟ کیا اب پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے کی وجہ ہے؟ تیل کمپنیوں کا الیکشن سے کیا تعلق؟
اس وقت اتر پردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 7 مارچ تک کو انتخابات ختم ہونے کے بعد ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ پانچ ریاستوں میں 10 مارچ کو نتائج سامنے آئیں گے۔










