اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایک سینیر مشیر نے منگل کو سی این این کو بتایا کہ اسرائیل نے "کچھ ایندھن” کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن انہوں نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اس ایندھن کو اپنی فوجی مشین میں پمپ کرنا چاہتی ہے۔
"ایندھن کی ترسیل "
کسی اسرائیلی اہلکار کی طرف سے یہ پہلا اشارہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایندھن کی کھیپ داخل ہوئی ہے۔
سی این این‘ نے منگل کو مارک ریگیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ایندھن کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا ااہے تمام قیدیوں کو رہا ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔
ان کا اشارہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کے ہاں یرغمال بنائے گئے 200 سے زائد اسرائیلیوں اور غیرملکیوں کی طرف تھا۔
ان لوگوں کو حماس نے سات اکتوبر کے سرحد پر حملے کے دوران حملہ کرکے پکڑ لیا تھا جس کے بعد انہیں غزہ لے جایا گیا تھا۔
"اسلحہ کے زور پر لوٹ لیا”
ریگیو نے کہا کہ "ہم نے کچھ ایندھن کو مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ کھیپ ہتھیاروں کے زور پر چوری کی گئی۔اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ ایندھن حماس کی فوجی کارروائیوں میں گیا تھا۔
ریگیو نے مزید کہا کہ”اسرائیل کا فیصلہ یہ ہے کہ ایندھن کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ حماس اسے چوری کرے گی اور ہم پر فائر کیے جانے والے راکٹوں کو طاقت کے لیے استعمال کرے گی”(سورس:العربیہ نیٹ)








