دیوبند۔ (سمیر چودھری) عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند نے ڈاڑھی مونڈنے کا جرم کرنے والے دورہ حدیث شریف کے چار طلبہ کا اخراج کردیاہے اور تمام جدیدو قدیم طلبہ کو انتباہ دیاہے کہ ڈاڑھی کاٹنے جیسا جرم ناقابل معافی ہے،اگر کوئی طالبعلم ریش تراشیدہ ہے تو اس کو نہ داخلہ دیاجائیگا اور داخل طالبعلم کا فوری اخراج کردیاجائیگا۔اس سلسلہ میں آج ادارہ کے ناظم تعلیمات مولانا حسین احمد ہریدواری نے جاری ایک اہم اعلان میں کہاکہ قواعد داخلہ دارالعلوم دیوبند میں یہ واضح ہے کہ نامناسب وضع قطع بالخصوص ڈاڑھی مونڈوانا یا تراشنا عربی مدارس میں قرآن وحدیث پڑھنے والے طالب علم کو ہر گززیب نہیں دیتاہے ،دارالعلوم دیوبند ہمیشہ سے اس معاملہ میں زیادہ حساس رہاہے اسلئے کسی جدیدیا قدیم طالبعلم کا اگروہ ریش ترشیدہ ہے نہ داخلہ ہوگا اور نہ ہی داخلہ برقرار رہے گا۔انہوں نے کہاکہ 14؍ رجب المرجب 1444ھ میں منعقد مجلس تعلیمی میں دورہ حدیث شریف کے چار طلبہ کا اسی جرم کے مرتکب ہونے کی بناء پر اخراج کردیاگیاہے، پھر مجلس تعلیمی منعقد 27؍ رجب کو ان تمام طلبہ کے معافی نامے پیش ہوئے، لیکن مجلس نے ان کی معافی کو قبول نہیں کیا اور ان کے اخراج کو برقرار رکھا، اس لئے من جانب مجلس تعلیمی اعلان کیا جاتاہے کہ جو طالبعلم اس حرام اور سنگین جرم کا مرتکب پایا جائے گا اس کا اسی وقت اخراج کردیاجائے گا۔
ادھر ،دوسری جانب مولانا حسین احمد ہریدواری نے طلبہ کو سالانہ امتحانات کے متعلق بھی ادارے کے قوانین پر عمل کرنے کی سخت ہدایت دی ہے اور کہاکہ امتحان گاہ میں کوئی طالبعلم کوئی کتاب،یا کاغذ،یا اخبار یا اسی طرح کوئی تحریر ہرگز ہمراہ نہ لائیں،نیز امتحان گاہ میں موبائل لانا بھی سخت جرم ہے ۔








