لکھنو(ایجنسی) آزادی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر مودی حکومت نے ’’ہر گھر ترنگا‘‘ کی مہم شروع کی ہے۔ جس کے تحت جہاں حکومت-انتظامیہ سڑکوں پر ترنگا ریلی نکال رہی ہے وہیں گھر گھر ترنگا نظر آنے لگا ہے۔ لوگوں کو ترنگا خریدنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ لیکن کئی جگہوں سے ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں جہاں انتظامیہ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ زبردستی عام لوگوں کو جھنڈا خریدنے پر مجبور کر رہی ہے۔
ایسا ہی کچھ اتر پردیش کے علی گڑھ اور اناؤ وغیرہ اضلاع میں دیکھنے کو ملا۔جبکہ ہاپوڑ کے بی جے پی دفتر میں لوگوں سے ترنگا کے عوض 20روپے لیےجارہے ہیں ،کئ جگہ کے ایسے ویڈیو ای ہیں کہ غریب راشن کارڈ ہولڈر اگر پیسے نہیں دے پا رہے ہیں تو اس کے عوض پانچ کلو اناج کاٹا جارہا ہے دی کوئنٹ نے علی گڑھ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ علی گڑھ میں دیکھا گیا ہے کہ غریب کارڈ ہولڈروں کو انتظامیہ کے حکم کے مطابق راشن ڈیلر سے ترنگا خریدنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے اور حکومت کی طرف سے راشن کی دکانوں سے مفت راشن کے ساتھ ترنگا جھنڈا بھی خریدا جا رہا ہے۔ مفت راشن کے ساتھ ترنگا جھنڈا خریدنے والے کارڈ ہولڈر کے کنبہ کے رکن ارون کمار کا کہنا ہے کہ جب وہ راشن ڈیلر سے راشن لینے گئے تو انہوں نے وہاں راشن کے ساتھ ایک جھنڈا دیا۔
ترنگے جھنڈے کے بدلے 21 روپے لیے گئے۔اسی طرح کا معاملہ اناؤ میں بھی سامنے آیا ہے جہاں میونسپلٹی کی طرف سے جھنڈے کے بدلے رقم اکٹھی کی جا رہی ہے۔ حکم میں واضح طور پر 20 روپے لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بلدیہ کے کارکن وصولی کے لیے گھر جانے لگے اور بلدیہ کا حکم دکھا کر پیسے لے لیے۔








