تحریر:پروفیسر محسن عثمانی ندوی
ہندوستانی علماء وہ دیوبند کے مکتب فکر کے ہوں یا بریلی مکتب فکر کے وہ زیادہ تر اپنی عقل سے کام نہیں لیتے، وہ ہمیشہ مسئلہ کو حنفیت کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اور دیگر حنفی علماء کا فتویٰ کیا ہے،
جب کہ عرب دنیا کے علماء یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر مسئلہ اجتہادی نوعیت کا ہے تو حالات کی تبدیلی کی وجہ سے حکم تو نہیں تبدیل ہوگیا اور قدیم فتویٰ کہیں اسلام کے نظام قسط و عدل کے خلاف تو نہیں ہوگیا ہے اور تاریخ میں فتووں کی تبدیلی کے اسباب پر ان کی نظر ہوتی ہے، اور وہ اس پر غور کرتے ہیں کہ کسی دوسرے امام کے فتوی کو قبول کرنے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں یا نہیں، عدل و قسط کی رعایت کدھر زیادہ ہے!
ہندوستان کے اکثر مفتیان کرام ان باتوں کی رعایت کم کرتے ہیں ، وہ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مفتیوں کے فتوے عالم عرب کے حنفی علماء کے فتووں سے بھی ٹکرا جاتے ہیں، جیساکہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں دیکھنے میں آیا،
آج کل ہندوستان کے مدارس میں قرآن و حدیث اور ادب میں مہارت کےلئے نہیں بلکہ افتاء میں ٹریننگ کےلئے ایک ہجوم رہتاہے، ایسا لگتاہے کہ ہر طالب علم کے دل میں "مفتی” بننے کا طوفان موجزن ہے،
اندیشہ ہے کہ مستقبل میں انتہا پسند حنفیت میں مبتلا مفتیان کرام کا ایک ایسا انبوہ تیار ہوجائے گا جو عقل سے زیادہ کام نہیں لے گا، صرف نقل سے کام لے گا اور صرف اپنے حلقہ کے علماء کی بات مانے گا، اسلام کے حق میں یقیناً یہ نیک فال نہیں ہے، ہندوستانی علماء کے جمود پر اقبال کا یہ شعر صادق آتاہے!
نہ جانے کتنے سفینے ڈبوچکی اب تک
فقیہ و صوفی و ملا کی ناخوش اندیشی
(تین ہم عصر علماء اور عہد ساز) شخصیتیں (ص: ۳۱/۳۲)
یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں







