اردو
हिन्दी
اگست 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کا سہارا لے کر گودی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈہ

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
316
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان
پچھلے چند دنوں سے گودی میڈیا کے چینلوں اور ویب سائٹس پر ایک جھوٹا پروپیگنڈا چل رہا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن اور دہلی وقف بورڈ مندروں کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا،   درحقیقت وقف کے بارے میں ہونے والے حالیہ چرچے کو غلط راستے پر موڑنے اور یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ وقف بورڈ اپنی ہی نہیں بلکہ مندروں کی زمینیں بھی  ہتھیانا چاہتا ہے۔
اس پروپیگنڈے کے لئے دہلی اقلیتی کمیشن کی پانچ سال قبل جاری  ہونے والی ایک رپورٹ کو  ذریعہ بنایا گیا ہے جسے میں نے اپنے دور صدارت میں تیار کرایا تھا اور جاری کیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے نام پر یہ جھوٹا دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس میں دہلی اقلیتی کمیشن اور دہلی وقف بورڈ نے مندروں کی زمین پر دعوی کیا ہے اوران کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دلی اقلیتی کمیشن  یا دلی وقف بورڈ نے ایسا کبھی اور کوئی دعوی نہیں کیا کہ وقف کی زمین پر بنائے گئے مندر توڑدئے جائیں یا انکی زمین وقف بورڈ کو واپس کی جائے۔ ۲۰۱۹ کی دلی اقلیتی کمیشن  کی رپورٹ  اس وقت کےبی۔جے۔پی کے ایم۔پی پرویش ورما کے اس دعوے کی جانچ کے لئے بنائی گئی تھی کہ ان کے پارلیمانی حلقے میں ناجائزمسجدیں  بن گئی ہیں،  ان کے خلاف ایکشن لیا جائ
پرویش ورما نے دہلی کے لفٹننٹ گورنر کو جون ۲۰۱۹ میں شکایت بھیجی تھی کہ پچھلے بیس سالوں میں ان کے حلقۂ انتخاب (مغربی دہلی) میں ۵۴؍ غیر قانونی مسجدیں وجود میں آئی ہیں ،  لہذا ان کے خلاف کار روائی کی جائے ۔ دوسرے لفظوں میں ان کو گرا دیا جائے۔ جب اس شکایت پر کوئی عمل نہیں ہوا تو ورما نے ایک اور خط لفٹننٹ گورنر کو اگلے ماہ  لکھ کر کار روائی کی مانگ کی۔
اس خبرکےشائع ہونے پرمیں نے دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے ایک ۵؍رکنی کمیٹی مقرر کر دی جس میں دو مسلمان، دو عیسائی اور ایک سکھ ممبر شامل تھے جو سب معاشرے کے معزز لوگ تھے اور قانونی اور حقوق انسانی کے میدان میں متحرک تھے۔  کمیٹی نے ان تمام ۵۴ مساجد کا موقع پر معاینہ کیا اور کاغذات دیکھے اور بالآخر ایک  مفصل  رپورٹ کمیشن کو دی کہ یہ مساجد کسی طرح غیر قانونی نہیں ہیں بلکہ ان میں بعض آثار قدیمہ میں داخل ہیں۔ اسی کے ساتھ کمیٹی نے ان بہت سے غیر قانونی مندروں کی تفصیل ان کے فوٹو کے ساتھ اپنی رپورٹ میں دی جو انھی قانونی مساجد کے آس پاس پائے جاتے ہیں لیکن وہ پرویش ورما کو نظر نہیں آئے۔  

یہ رپورٹ لفٹننٹ گورنر، وزیر اعلی دہلی اور خود پرویش ورما کو بھیج دی گئی اور ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے میڈیا کو بھی باخبر کردیا گیا۔ اس کے بعد سے پرویش ورما  اس مسئلے پر خاموش ہے لیکن  اب پانچ سال بعد اچانک  ۱۹ ستمبر ۲۰۲۴ کو زی نیوز کو یہ رپورٹ یا د آگئی لیکن  بالکل غلط طریقے سے۔ زی نیوز نے اس رپورٹ کو یوں پیش کیا کہ دہلی وقف بورڈ مندروں کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے! بات صرف اتنی سی تھی کہ مذکورہ رپورٹ میں چند مندروں کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ وقف کی زمینوں پر قائم ہیں!

ہماری  کمیٹی نے موقع پر ہر مسجد کا معائنہ کر کے یہ پایا کہ کوئی مسجد ”اویدھ“ (نا جائز) نہیں ہے بلکہ سب قانونی ہیں اور بعض تو صدیوں پرانی ہیں۔ اپنے کام کے دوران کمیٹی نے یہ بھی دیکھا کہ انھیں جگہوں اویدھ مندر موجود ہیں اور ان میں سے کچھ وقف کی زمین پر بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھ دی لیکن مندروں کے خلاف نہ کوئی مطالبہ کمیشن نے کیا اور نہ ہی وقف بورڈ نے ۔ اب گودی میڈیا  جو پروپیگنڈا چلا رہا ہے وہ پوری طرح سے من گھڑت ہے  بلکہ  وہ  اصل بات کو چھپا رہا ہے۔ یہ سب صرف حالیہ دنوں میں وقف کے بارے میں چرچے کو غلط رخ دینے کی کوشش ہے۔
چند روز قبل زی نیوز کے ایک رپورٹرنے مجھ کو فون کیا کہ وہ  اگلے دن اس معاملے پراپنے چینل پر  چرچا کرنا چاہتے ہیں جس میں میری شرکت کی درخواست کی گئی۔ میں ان کو بتا دیا کہ سابقہ تلخ تجربوں کی وجہ سے میں ساڑھے چار سال سے گودی میڈیا سے کوئی بات نہیں کرتا۔ اس پر وہ شخص معذرت کر کے چپ ہو گیا۔ اگلے دن ”زی سلام“ سے ایک رپورٹر کا فون آیا کہ مذکورہ مسئلے پر آپ کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کو بھی بتایا کہ میں گودی میڈیا سے بات نہیں کرتا کیوں کہ وہ کاٹ پیٹ کر بات چلاتے ہیں اور اسٹڈیو میں آنے پر بات بھی  نہیں کرنے دیتے ہیں۔ اس پر اس نے کہا کہ زی سلام مختلف ہے اور آپ جو کہیں گے وہی چلے گا۔ اس پر میں نے ہامی بھردی۔ اگلے دن شام کو وہ صاحب آئے اور مجھ سے کافی لمبا انٹرویو لیا ۔ اس میں ،میں نے مذکورہ رپورٹ کی حقیقت اور موجودہ رپورٹوں کے جھوٹ کی وضاحت کر دی اور ساتھ ہی  کمیشن کی  مذکورہ رپورٹ کی ایک کاپی بھی ان کو دے دی۔لیکن اس رات وہ رپورٹ نہیں دکھائی گئی۔ میرے استفسار  پر انہوں نے بتایا کہ آپ کا انٹرویو  کل دکھایا  جائے گا-

کل بھی آیا جب  اس چینل نے کچھ لوگوں کو جمع کیا  جس میں تین بھگوا دھاری شامل تھے۔ ایک ایڈوکیٹ صاحب نے، جو ہماری مذکورہ کمیٹی کے ممبر تھے، بات واضح کرنے کی کوشش کی لیکن اینکر نے ان کو پوری بات نہیں کہنے دیا  جبکہ دوسروں کو وقت دیتا رہا جس میں ایک بھگوا دھاری سادھو نما شخص بھی تھا جس نے شو کے دوران اعلان کیا کہ ایک مندر لوگے تو ہم تمہاری دس مسجدیں لیں گے!  اس کے بعد  ایک معروف ہندی روزنامہ کے رپورٹر نے مجھ سے بات کی لیکن وہ میری بات سننے کے بجائے بس اپنی بات کہتا رہا تو میں نے فون کاٹ دیا۔
اب بھی  یہ پروپیگنڈا متعدد ہندوتو انوا ز ویب سائٹس پر  چل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو حقیقت سے کوئی مطلب نہیں۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لئے وہ کوئی جھوٹ بول سکتے ہیں۔
(ختم)
 

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN