کسان تنظیموں نے 13 فروری کو دہلی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کسان تنظیمیں دسمبر 2023 سے نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ حاصل کی گئی ان کی زمینوں کے بدلے معاوضہ اور پلاٹوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔ کسان گروپ اپنے مطالبات کے سلسلے میں ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ‘کسان مہاپنچایت’ 7 فروری کو بلائی گئی ہے اور 8 کو دارالحکومت دہلی میں پارلیمنٹ تک احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔۔
چنانچہ یوپی سے دہلی تک کسانوں کے مارچ کی وجہ سے نوئیڈا میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ 5 منٹ کا سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں مکمل ہو رہا ہے۔ پولیس نے نوئیڈا میں مہامایا فلائی اوور کے قریب بیریکیڈ لگا کر کسانوں کو روک دیا ہے۔ پولیس کسانوں کو حراست میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے کسانوں کو بسوں میں لاد کر ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان معمولی تکرار بھی دیکھی گئی۔ احتجاج کرنے والے کسانوں نے لیڈر سکھبیر خلیفہ کو گھیر لیا اور وہیں کھڑے ہو گئے۔







