ئی دہلی: آخر کار ہریانہ پولیس نے جنید ناصر قتل کیس میں مطلوب مونو مانیسر کو حراست میں لے لیا ہے۔ مونو مانیسر فروری میں جنید ناصر قتل کیس میں مطلوب تھا۔ اس کے علاوہ نوح تشدد میں مونو مانیسر کا نام بھی آیاتھا اس پر مبینہ گئو رکھشک کے نام سے متعدد مسلمانوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ہریانہ پولیس مونو مانیسر کو راجستھان پولیس کے حوالے کر سکتی ہے۔
مونو مانیسر عرف موہت یادو نوح میں مبینہ گئو رکھشک گروپ کی قیادت کرتا ہے اور حملوں کی ویڈیوز پوسٹ کرنے کے لیے بدنام ہے۔ وہ ‘لو جہاد’ کے خلاف مہم میں بھی سرگرم ہے۔ ‘لو جہاد’ کی اصطلاح عام طور پر دائیں بازو کی طرف سے استعمال کی جاتی ہے، جس میں مسلمان مردوں پر ہندو خواتین کو ورغلانے اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔








