جے پور:
مینابرادری اور ہندوتووادی گرو پ کے درمیان امبا گڑھی قلعہ پرحالیہ تنازع کو لے کر مبینہ طور پر آدیواسیوں اور مینا برادری کےجذبات کو مجروح کرنے پر سدرشن ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف سریش چوہانکے کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ہے ۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق راجستھان آدیواسی مینا سیوا سنگھ کے ممبر گری راج مینا کی شکایت پر جمعہ کو جے پور کے ٹرانسپورٹ نگر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
مینا کے ذریعہ درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے 23 جولائی کی شام سدرشن ٹی وی کے سریش چوہانکے نے اپنی مرضی سے مجھے اور پورے آدیواسی برادری کو گالی دی اور یہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ ایف آئی آر میں آگے کہا گیاہے کہ چوہانکے اور دیگر ایک سازش کے تحت مذہبی نفرت پھیلانا چاہتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل ڈالنے کے لیے انتشار اور فسادات پھیلانا چاہتے ہیں۔
آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 67 کے ساتھ آئی پی سی سیکشن 295 (کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کرنے کے ارادے سے عبادت گاہ کو چوٹ پہنچانا یا ناپاک کرنا) اور 504 (امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنا) اور ایس سی ؍ ایس ٹی ( انسداد مظالم) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کےتحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ایس پی آدرش نگر نیل کمل نے کہاکہ اس معاملے میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور چوہانکے ایک ملزم ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں امبا گڑھ قلعہ دو برادری کے درمیان تنازع کامرکز بن گیا ہے ۔ اس قلعہ پر لگے بھگوا جھنڈا کو حال ہی میں آزاد ایم ایل اے رام کیش مینا کی موجودگی میں کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر پھاڑ دیا تھا۔ اس تعلق سے ٹرانسپورٹ نگر تھانہ میں مینا برادری اور دائیں بازو تنظیموں کی جانب سے 22 جولائی کو دو ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔ پولیس کو بدھ کو قانون وانتظام بنائے رکھنے کے لیے قلعہ اور اس پر بنے مندر میں داخلہ کو روکنا پڑا۔
اس دوران مینا نے نامہ نگاروں کو بتایا ہم نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ وہ قلعہ کھول دے اور چابیاں مینا برادری کو سونپنے کی مانگ کی ہے تاکہ مندر میں وہ لوگ پوجا کرسکیں۔ اس سے پہلے تختیاں ہٹائی گئیں ،مورتیوں کی چوری کی گئی اور اب داخلہ بند کردیا گیا ۔











