تل ابیب:اس ہفتے بین الاقوامی عدالت انصاف جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے ایک مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں اسرائیل پر غزہ جنگ میں نسل کشی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی مہم کو فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس کیس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس کے لیے اسرائیل نے اپنے چوٹی کے ماہرین قانون کو چنا ہے جن میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایک یہودی جج اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہارون براک کو بھی شامل کیا ہے جو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر اسرائیل کا دفاع کریں گے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیل ہولوکاسٹ کے ایک متنازعہ زندہ بچ جانے والے شخص سمیت سینیر قانونی ماہرین کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے دی ہیگ بھیج رہا ہے۔
ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا وکیل
اسرائیل کو مقدمہ کے فریق کی حیثیت سے ایک قانونی ماہر بھیجنے کا حق حاصل ہے۔ اس نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کو پندرہ رکنی پینل میں شامل کرنے کے لیے مقرر کیا جو اس الزام پر عالمی عدالت میں قانونی جنگ لڑیں گے۔اسرائیل نے بین الاقوامی ججوں کے پینل میں شامل ہونے کے لیے براک کا انتخاب کیا ہے جو کئی دہائیوں سے ملک کے قانونی شعبے کا حصہ ہیں۔
ہارون براک ایک سابق پراسیکیوٹر اور امن مذاکرات کار تھے جنہوں نے 1995ء سے 2006ء تک اسرائیل کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی برتاؤ سے متعلق کئی مقدمات پر فیصلے سنائے۔87 سالہ بین الاقوامی شہرت یافتہ جسٹس ریٹائرڈ ہارون براک کو Yale اور Oxford سمیت ممتاز یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں بھی مل چکی ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں شامل تھے۔ اسے لتھوانیا میں کوونو یہودی بستی بھیج دیا گیا تھا جب وہ پانچ سال کا تھا۔۔
نیتن یاھو سے اختلافات
لیکن صرف چند ماہ قبل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل کی عدلیہ میں اصلاحات کے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ براک کو ہدف تنقید بنایا تھا۔مظاہرین نے تل ابیب میں ان کے گھر کے سامنے دھرنا دیا اور سیاست دانوں نے کنیسٹ میں تقریروں میں ان پر تنقید کی۔ لیکن ہیگ میں اس مسئلے کا سامنا کرتے ہوئے نیتن یاہو کاموقف تیزی سے بدل گیا۔ یہاں تک کہ ان کے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔
اسرائیل امید اور خوف کے درمیان
اسرائیل کو امید ہے کہ ماہر قانون ہارون براک اور ان کی ٹیم اپنے تجربے سے دی ہیگ کی عدالت میں جنوبی افریقہ کو قانونی شکست سے دوچار کریں گے، جہاں انہیں غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم کے دوران اسرائیلی فوج پر نسل کشی کے الزمات پر اسرائیل کا دفاع کرنا ہوگا۔
بین الاقوامی عدالت انصاف کے ساتھ معاملہ کرنا اسرائیل کے لیے غیر معمولی واقعہ ہے۔ اسرائیل عام طور پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں کو غیر منصفانہ اور متعصبانہ قرار دیتا آیا ہے۔
بائیکاٹ کے بجائے شرکت کا فیصلہ اسرائیلی اندیشوں کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جج اسرائیل کو حماس کے خلاف جنگ روکنے اور عالمی سطح پر اس کی شبیہ کو مسخ کرنے کا حکم جاری کرسکتے ہیں
مقدمہ برسوں تک چل سکتا ہے
قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک پر طویل عرصے سے سخت تنقید کرنے والے جنوبی افریقہ نے نیدرلینڈ میں اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔امکان ہے کہ کیس برسوں تک چلتا رہے گا لیکن جنوبی افریقہ کے میمورنڈم میں عدالت سے یہ درخواست بھی شامل ہے کہ وہ اسرائیل کو "غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے” کے لیے عبوری احکامات جاری کرے









