بھوپال:مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ لیڈروں کی ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں آمد و رفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ دریں اثنا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سابق پرچارکوں نے اپنی ایک نئی پارٹی بنائی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس پارٹی نے بی جے پی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ ریاست میں ایسا کیوں ہوا؟ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے اور اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟ سابق پرچارک ابھے جین نے تقریباً 2 دہائیوں تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں خدمات انجام دیں۔ ان کے ساتھ مہیش کالے، وشال بندل، راجہ رام اور منیش کالے نے مل کر ‘جن ہت پارٹی’ کے نام سے اپنی پارٹی شروع کی ہے۔ پارٹی نے پہلا الزام یہ لگایا کہ سنگھ کے نظریے سے وابستہ لوگوں کے لیے بی جے پی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ سبھی مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں دہائیوں سے سنگھ کے پرچارک رہے ہیں، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب جگہ نہیں مل رہی
نئی پارٹی بی جے پی کا نیا منصوبہ؟
دی کوئنٹ نے بتایا کہ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ بھی سنگھ کی ایک سیاسی چال ہے، جس کے تحت وہ ان ووٹروں اور کارکنوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بی جے پی کے 18 سال کے دور اقتدار سے ناخوش ہیں اور پارٹی کے خلاف بغاوت کر کے کانگریس کی حمایت کر سکتے ہیں۔
ریاستی سیاسی تجزیہ کار ارون ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ لڑائی دلچسپ ہے اور بی جے پی کے لیے انتخابات مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘کشتی میں کئی جگہوں سے پانی ٹپک رہا ہے، ایک طرف لیڈر پارٹی چھوڑ رہے ہیں، دوسری طرف گزشتہ 18 سال کے دور حکومت کے رپورٹ کارڈ میں کچھ خاص نظر نہیں آرہا، اینٹی انکمبینسی بہت دبنگ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے لڑائی بھی چل رہی ہے، لڑائی بھی ہے اور مسائل بھی ہیں۔ ایسی لڑائی میں بی جے پی والے ہی بی جے پی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔”








