نئ دہلی:دھوکہ دہی معاملے میں جیل میں قید سوکیش چندرشیکھر کے الزامات کی جانچ کررہی کمیٹی نے رپورٹ ایل جی آفس کو سونپ دی ہے۔ کمیٹی نے معاملے کی جانچ کسی اور ایجنسی سے کروانے کی سفارش کی ہے۔ سوکیش سے جیل میں ملاقات کر کے کمیٹی اس سلسلے میں دو مرتبہ بیان درج کرچکی ہے۔نیوز18کی خبر کے مطابق سوکیش نے وزیراعلیٰ اروند کجریوال اور وزیر ستیندر جین کے خلاف سنگین الزام لگائے تھے۔
اس معاملے کی جانچ کے لیے چیف سکریٹری (داخلہ) کی صدارت میں تشکیل کردہ تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں سوکیش نے کروڑوں روپے دینے کے الزام کو دوہرایا ہے۔سوکیش نے جیل میں بنددہلی حکومت کے وزیر سیندر جین کو 60 کروڑ (50 کروڑ عاپ سے راجیہ سبھا سیٹ حاصل کرنے جب کہ 10 کروڑ روپے سیکورٹی رقم) سمیت جیل کے سابق ڈائریکٹر جنرل سندیپ گوئل کو دینے کا الزام لگایا تھا۔
کمیٹی نے 14-15 نومبر کو منڈولی جیل میں دوبار سوکیش کے بیان درج کیے۔ سوکیش نے بیان میں الزام کو دوہرایا ہے کہ اسولا مائنس واقعہ ٹرانسپورٹ منصتر کے فارم ہاوس پر ستیندر جین کو 50 کروڑ روپے کی قسط کی ادائیگی کی گئی۔ اس مالی لین دین کی وزیراعلیٰ کو بھی جانکاری ہونے کی بات کہیبیان میں اس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ جین اور گہلوت بھی سوکیش کی جانب سے ایک معروف ہوٹل میں منعقدہ ڈنر میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں منعقدہ اس پارٹی میں آخری قسط کی سوکیش نے ادائیگی کرنے کی بات کہی ہے۔
سوکیش نے جانچ کمیٹی کو دئیے بیان میں کہا ہے کہ اس کے پاس ستیندر جین کے وہاٹس ایپ چیٹ میں رقم، ادائیگی کا وقت اور جگہ کے بارے میں دی گئی باتوں کا ثبوت بھی ہے اور ضرورت پڑنے پر جانچ ایجنسی کے روبرو اسے پیش کیا جائے گا۔ سوکیش نے انکشاف کیا ہے کہ ہر مرتبہ اس نے ستیندر جین کو اسی فارم ہاوس میں رقم کی ادائیگی کی۔








