جیرمی بون : جنگ بندی جتنی دیر چلی یہ ایک سفارتی کامیابی تھی۔ اب سات دن کے وقفے کے بعد اسرائیل اور حماس کو اپنے سب سے بڑے عسکری اور سیاسی مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔
حماس کے لیے یہ بقا کی جنگ ہےجب تک حماس کے پاس ایسے جنگجو ہیں جو گولی چلا سکتے ہیں یا اسرائیل کی جانب راکٹ داغ سکتے ہیں وہ یہ دعویٰ کریں گے کہ انھیں شکست نہیں ہوئی۔
اسرائیل ایک بڑی عسکری طاقت ہے لیکن اس کے اہداف کافی پیچیدہ ہیں۔اس کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اسرائیل پر حماس کے حملے میں تقریباً 1200 لوگوں کی ہلاکت کے بعد ’طاقتور انتقام‘ کا وعدہ کیا تھا
اسرائیلی فوج کے جارحیت کے آغاز کے کچھ گھنٹوں میں ہی حکومت نے ایک واٹس ایپ پوسٹ کے ذریعے جنگی مقاصد کو حاصل کرنے کا عزم کیا۔ انھوں نے کہا ’یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا خاتمہ اور اس بات کو یقینی بنانا کہ غزہ اسرائیلی شہروں کے لیے دوبارہ کبھی خطرہ نہ بنے‘ ان کے مقاصد ہیں۔
یہ مقاصد کیسے حاصل کرنے ہیں اور اس کے بعد کیا ہو گا یہ وہ باتیں ہیں جن پر اسرائیلی وزیر اعظم ان کے سیاسی اتحادی، اسرائیل میں ان کے حریف اور امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن گہری سوچ میں مبتلا ہیں۔ جنگ کے ابتدا سے امریکی وزیر خارجہ چار بار اسرائیل اور خطے کا دورہ کر چکے ہیں۔شاید انتھونی بلنکن کو معلوم تھا کہ جسے وہ ’انسانی بنیادوں پر وقفے‘ کا نام دے رہے ہیں اسے بڑھانے کی ان کی کوشش ناکام ہو گی۔۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ’اسرائیل ایک ایسے دہشتگرد گروہ کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور جنگی قوانین کے مطابق کارروائی کر رہا ہے جبکہ وہ (حماس) دونوں کا احترام نہیں کرتے۔‘
لیکن اس کے بعد وزیر خارجہ بلنکن نے اب تک کا سب سے طویل عوامی بیان دیا جس میں انھوں نے بتایا کہ اسرائیل کو یہ جنگ کیسے لڑنی چاہیے۔اس کو پورا بتانا چاہیے کیونکہ یہ امریکہ کی اپنے سب سے قریبی اتحادی اسرائیل کے ایک قسم کی توقعات کی فہرست ہے۔
جنگ کی ابتدا میں امریکی صدر جو بائیڈن یہاں آئے تھے۔ انھوں نے اسرائیل کو پرجوش طریقے سے گلے لگایا لیکن اس کے ساتھ اپنے اتحادی کو انتباہ بھی کیا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے غصے میں اندھے نہ ہو جائیں جیسے القائدہ کے نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ ہو گیا تھا۔سیکرٹری بلنکن کے بیان سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ صدر جو بائیڈن کا خیال ہے کہ نیتن یایو نے ان کی بات نہیں سنی۔
اسرائیل حماس کو ختم کرنے کا دعویٰ تب تک نہیں کر سکتا جب تک وہ جنوب میں ان کی تنصیبات کو تباہ نہیں کر دیتا۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں اسرائیل کا ماننا ہے کہ یحییٰ السنوار دیگر جنگجوئوں اور رہنماؤں سمیت عام شہری عمارتوں کے نیچے سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
مصر اور دیگر ممالک کو تشویش ہے کہ جنوب میں 20 لاکھ لوگوں پر شدید عسکری دباؤ کی وجہ سے کئی ہزار مجبور لوگ زور لگا کر سرحد عبور کر کے صحرائے سینا میں چلے جائیں گے۔ ایک نیا فلسطینی ریفیوجی بحران مشرق وسطیٰ کے لیے ایک اور خطرناک لمحہ ہوگا۔
فرض کرتے ہیں کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو ایک علاقے کے بارے میں بتایا جائے گا جہاں وہ محفوظ رہیں گے۔ جس قسم کی شدید جنگ اسرائیل ٹینکوں، فضائی حملوں اور بھاری توپوں سے کر رہا ہے، اس سے جنگ کی کامیابی کے مقابلے یہ زیادہ آسانی سے نظر آ رہا ہے کہ یہ حکمت عملی کیسے ناکام ہو سکتی ہے۔
اگر اسرائیل ایسی حکمت عملی اپناتا ہے جس میں اس کی پیادہ فوج فضائی اور آرٹلری کے بغیر حماس سے مقابلہ کرتی ہے تو اس کا پہلے سے زیادہ نقصان ہو گا۔
حماس کی شکست ابھی نہیں ہوئی۔ اس کے پاس اسرائیلی یرغمالی ابھی بھی ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اسرائیل کی عسکری کارروائیوں میں خلل ڈال سکتا ہے اور ان کی مدد سے وہ اسرائیل پر نفسیاتی دباؤ بھی ڈال سکتا ہے۔ اگر اسرائیل نے امریکہ کی بات مان کر کم بمباری کی تو یحییٰ السنوار اور ان کے جنگجو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔یہ جنگ کا نیا مرحلہ ہے، فلسطینی اور اسرائیلی عوام ایک خطرناک اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے پریشان ہیں (بشکریہ بی بی سی)








