واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ نے غزہ میں ایسی کارروائیوں کا مشاہدہ نہیں کیا ہے جو نسل کشی پر مبنی ہوں۔ امریکہ کا یہ موقف جنوبی افریقہ کی جانب سے فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائی پر عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ دائرہ کرنے کے بعد سامنے آیاہے۔
وائس آف امریکہ کے مطابق امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے بدھ کی نیوز بریفنگ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزام کے پس منظر میں کہا کہ یہ الزامات ہیں۔ ہم ایسی کارروائیاں نہیں دیکھ رہے جن پر نسل کشی کا اطلاق ہوتا ہو۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ محکمہ خارجہ کا عزم ہے۔
ان سے جنوبی افریقہ کی جانب سے منگل کے روز کی گئی اس درخواست کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ عالمی عدالت ایک فوری حکم جاری کرے جس میں یہ اعلان کیا جائے کہ اسرائیل 1948 کے نسل کشی کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
دالت نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر 11 اور 12 جنوری کو عوامی سماعتیں مقرر کی ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل کے اندر گھس کر کیے جانے والے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 22 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ محصور شہر غزہ کا ایک بڑا حصہ تباہ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اور وہاں کے 23 لاکھ رہائشیوں کو ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس یہ تعین کرنے کے لیے ایسا کوئی مواد موجود نہیں کہ وہاں جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
واشنگٹن نے منگل کے روز اسرائیل کے دو وزیروں کی جانب سے غزہ سے باہر فلسطینیوں کو ازسرنو آباد کرنے کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل نے امریکی حکام کو یقین دلایا ہے کہ مذکورہ وزرا کے بیانات اسرائیلی حکومت کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے









