نئی دہلی :
سوشل میڈیا سیل کے لیے تقررکئے گئے رضا کاروں کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دو ٹوک کہا ہے کہ جو بے خوف ہیں انہیں کانگریس میں شامل کروایا جائے۔ وہیں جو ڈرنے والےہیں انہیں پارٹی سے نکال باہر کیا جائے۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ جنہیں ڈر لگتا ہے وہ جا سکتےہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے فیک نیوز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہاکہ اگر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ یوگی سرکار نے اترپردیش میں کورونا صورت حال پرقابو پانے کے لیے اچھا کام کیا ہے تو ان پر ہنسئے۔ پی ایم اگر کہتے ہیں کہ بھارت کی سرحد پر چین نہیں گھسا تو ان پر ہنسئے۔ انہوں نے رضاکاروں سے اعلان کیا کہ بی جے پی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بتاتے چلیں کہ حال کے دنوں میں راہل گاندھی مرکزی سرکار پر لگاتار حملہ آور رہے ہیں۔
حال ہی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دفاع سے متعلق پارلیمنٹری قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں پاکستان، سرحد پر چین کا جارحانہ رویہ اور افغانستان کے کئی علاقوں میں طالبان کے قبضے سمیت کئی ایشوز کو اٹھایا تھا اور کہاکہ ان پر بھی بحث ہونی چاہئے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے سربراہ اور بی جے پی رہنما جیوال اوراوں نے ان پر تبادلہ خیال کرنے سے انکار کردیا تھا ، جس کے بعد راہل گاندھی میٹنگ ختم ہونے سے کچھ منٹ پہلے ہی باہر نکل گئے تھے۔
ادھر میڈیا میں اس بات کو لے کر بحث ہے کہ کانگریس میں گاندھی پریوار سے باہر کا کوئی ایگزیکٹیو چیئرمین بن سکتا ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے جمعرات کو سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی تھی ۔ ذرائع کے مطابق سونیا گاندھی کے علاوہ 10 جن پتھ پر ہوئی میٹنگ کے دوران کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی موجود تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران کانگریس اور موجودہ سیاست سے متعلق پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ پرشانت کشور نے دو دن قبل کانگریس لیڈروں کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی تھی۔ تب سے اب تک قیاس آرئیوں کا بازار گرم ہے۔











