مغربی بنگال کے سندیش کھالی معاملہ میں بی جے پی کی پول کھلی تھی کہ اب مہاراشٹر میں شیوسینا شندے گروپ کے ایک لیڈر نے یہ کہہ کر سنسنی پھیلادی کہ میرے سامنے دو ہی راستے تھے جیل جاؤں یا چیو سنا چھوڑ کر پارٹی بدل لوں :واضح ہو سندیش کھالی میں متاثرہ ایک عورت نے الزام لگایا تھا کہ میرے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی تھی بلکہ بی جے پی والوں نے سادہ کاغز پر دستخط کرائے تھے اور میرے نام سے ایف آئی آر درج کرادی
تفصیل کے مطابق لوک سبھا انتخاب کے درمیان ایکناتھ شندے گروپ والی شیوسینا کے امیدوار رویندر وائیکر نے اپنے ایک بیان سے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ وائیکر نے حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کے شروع میں وہ ای ڈی اور معاشی جرائم سیل کی جانچ کے دائرے میں آ گئے تھے۔ ایسے میں ان کے پاس دو ہی راستے تھے، پہلا یہ کہ وہ جیل جائیں، اور دوسرا وہ کوئی دوسری پارٹی جوائن کر اپنا رخ واضح کریں۔
واضح رہے کہ کبھی ادھو ٹھاکرے کے قریبی رہے وائیکر نے رواں سال ہی وزیر اعلیٰ شندے کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھوں نے ’مہاراشٹر ٹائمس‘ سے بات چیت میں کہا کہ جب جانچ ایجنسیاں انھیں سمن بھیج رہی تھیں تو انھوں نے ادھو ٹھاکرے سے مدد مانگی تھی۔ وائیکر کا کہنا ہے کہ ’’میں نے ادھو ٹھاکرے سے اپیل کی تھی کہ وہ پی ایم مودی سمیت اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کی بات وہاں تک پہنچا سکتے ہیں۔ حالانکہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔‘‘
وائیکر نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے ان کی بات توجہ سے سنی اور ایجنسی کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔ وائیکر سے ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں پوچھ تاچھ کی تھی۔ یہ جوگیشوری علاقے میں ایک شاندار ہوٹل کی تعمیر سے جڑا معاملہ تھا۔ وائیکر نے کہا کہ جب میرے خلاف جھوٹی کارروائی شروع ہوئی تو میرے پاس دو ہی راستے تھے، یا تو جیل جاؤں یا پھر پارٹی بدل لوں۔
اعلیٰ ایکناتھ شندے کو لے کر رویندر وائیکر نے کہا کہ ان کے ساتھ رشتے ہمیشہ آسان نہیں رہے ہیں، لیکن کئی دور کی بات چیت اور تبادلہ خیال کے بعد ہم اپنی نااتفاقیوں کو دور کرنے میں کامیاب رہے۔ وائیکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ شندے نے ای ڈی کے افسران سے بھی بات کی اور ان کی حمایت کی وجہ سے سبھی فکر اور تناؤ دور ہو گیا۔









