اردو
हिन्दी
جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

گورکھپور: یوگی کے لئے کیااپنی سیٹ جیت جانا ہی کافی ہوگا؟ – گراؤنڈ رپورٹ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
گورکھپور: یوگی کے لئے کیااپنی سیٹ جیت جانا ہی کافی ہوگا؟ – گراؤنڈ رپورٹ
80
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:کیرتی دوبے

کہتے ہیںکہ گورکھپور کی سیاست میں گورکھ ناتھ مٹھ کی مرضی کے بغیر ایک پتا نہیں ہلتا۔ بات سال 2002 کی ہے جب یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور میں بی جے پی کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔ دراصل، بی جے پی نے شیو پرتاپ شکلا کو اسمبلی کا ٹکٹ دیا اور وہ یوگی آدتیہ ناتھ کو پسند نہیں تھے، اس لیے انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہندو سبھا سے ڈاکٹر رادھا موہن داس اگروال کو اپنا امیدوار بنا کر میدان میں اتار دیا۔

یہ پہلا موقع تھا جب مٹھ کھل کر بی جے پی کے خلاف ہندو مہاسبھا کے امیدوار کی حمایت کر رہا تھا۔ ہوا یہ کہ بی جے پی سے شیو پرتاپ شکلا چار بار الیکشن جیت رہے تھے، وہ اس بار الیکشن ہار گئے۔ ساتھ ہی اس الیکشن نے بی جے پی کے ہائی کمان کو یہ پیغام دے دیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ اور مٹھ گورکھپور کی سیاست میں کیادم خم رکھتے ہیں ۔

20 سال بعد یوگی اب گورکھپور سٹی سیٹ سے اپنا پہلا اسمبلی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اور اس بار ان کے سامنے وہی امیدوار کھڑے ہیں جو کبھی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

سماج وادی پارٹی نے اس سیٹ کے لیے سبھاوتی شکلا کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جو گورکھپور میں بی جے پی کے مضبوط لیڈر آنجہانی اپیندر دت شکلا کی بیوی ہیں۔ یوگی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد، بی جے پی نے اپیندر شکلا کو 2018 میں ان کی لوک سبھا سیٹ کے ضمنی انتخاب میں ٹکٹ دیا، لیکن وہ ایس پی-نشاد پارٹی اتحاد کے پروین نشاد سے ہار گئے۔

28 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں گورکھپور سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ بی جے پی کے ایک دھڑے نے شکلا کی حمایت نہیں کی۔

کبھی ساتھ کھڑے لوگ آج یوگی کےخلاف

گورکھپور شہر کے اردو بازار کے قریب ایک بہت ہی تنگ گلی میں، سبھاوتی شکلا کے گھر کے قریب گلے میں لال ایس پی کاپٹا ڈالے کارکنان دور سے نظر آجاتے ہیں ۔ گھر کے اندر جب ہم داخل ہوئے تو ایک بے حد کم روشنی والے کمرےمیں ہمیں بٹھایا گیا۔ تھوڑی دیر میں سبھاوتی شکلا اس کمرےمیں آئیں۔ ان کے ساتھ کھڑے ان کے بھتیجے نےکہاکہ ’یہ بات ٹھیک سے نہیں کر پائیں گی گھریلو خواتین تھیں، اب تک تو انہیںمعلوم نہیں میڈیا سے بات کیسے کرنی ہے۔‘

سبھاوتی جو بہت پرسکون نظر آرہی تھیں، ہمارے پہلے ہی سوال پر جذباتی ہوگئیں، ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آنسو بھری آواز میں انہوں نے کہا، ’’ہمارے شوہر کو گزرے دو سال ہو گئے لیکن یوگی جی اور پارٹی کے بڑے لیڈرہمارے دروازے پر نہیں آئے۔ ہمیں کوئی نہیں پوچھا، ہم کیا کرتے۔ اکھلیش جی کےپاس گئے تو انہوںنے احترام دیا، اپنی ماں کی طرح عزت دی۔ یہ الیکشن ہم اپنے شوہر کے احترام کے لئے لڑ رہے ہیں ۔‘

بی جے پی سے ان کی مایوسی سبھاوتی کے الفاظ سے صاف نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’42 سال تک، میرے شوہر نے بی جے پی کے لیڈروں کے لیے سب کچھ کیا، ان کے جھولے تک اٹھائے، اس پارٹی کے دروازے پر جب ہم گئے تو جواب ملا کہ یہ مردوں کی پارٹی نہیں ہے ۔ مجھے اکھلیش کوجتانا ہے ۔ ہمارے شوہر کو سال 208 میں ضمنی انتخاب نہیں لڑنا تھا لیکن انہیں زبردستی ٹکٹ دے کر الیکشن لڑایا گیا اور ہرایا بھی گیا۔ یہ سب کس کےاشارے پر ہوا سبھی کومعلوم ہے ۔ ‘

سبھاوتی جن کا خاندان یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے برسوں تک ووٹ مانگتا رہا آج یوگی کے خلاف کھڑا ہے۔

لیکن وہ اکیلی نہیں ہیں، کانگریس نے بھی گورکھپور کی سیاست میں داؤ اسی پر لگایاہے جس کا ماضی کہیں نہیں کہیں بی جے پی اوریوگی سے جڑا رہاہے ۔ چیتنا پانڈے اس بار کانگریس کی امیدوار ہیں۔ چیتنا، سال 2005 میں گورکھپور یونیورسٹی میں طلبہ کے نائب صدر رہیں چیتنا طوعل عرصے تک آر ایس ایس سے وابستہ طلبہ تنظیم اے بی وی پی سے جڑی رہی ہیں ۔

جب کانگریس نے ان کے نام پر مہر لگائی تو سوشل میڈیا پر ان کی تصویر ریاست کے موجودہ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے لگی۔ چیتنا نے 2019 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی، لیکن وہ 2005 سے اے بی وی پی سے وابستہ رہیں۔

چیتنا نے ایسے وقت میں کیوں بی جے پی چھوڑ کر کانگریس کا رخ کیا جب ریاست میں کانگریس کی حالت ابتر ہے؟

اس سوال پر چیتنا کہتی ہیں، ’’میں نے اے بی وی پی سے اسٹوڈنٹ یونین کا الیکشن اس وقت لڑا تھا جب لڑکیاں بھی طلبہ کی سیاست میں نہیں آتی تھیں، برسوں اور سالوں تک وہی کرتی رہی جو انہیں بی جے پی اور اے بی وی پی میں کرنے کو کہا جاتا تھا۔ میں نے اس نظریے کی حمایت کی۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ وہ (یوگی آدتیہ ناتھ) کتنے طاقتور ہیں، وہ نہ صرف اپنی پارٹی کی سیاست پر اثر انداز ہونے کے قابل سمجھے جاتے ہیں، بلکہ دیگر پارٹیوں کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔میں بی جے پی کے نظریے سے وابستہ تھا اور اس کے لیے دن رات کام کیا۔ لیکن پارٹی مجھے قبول نہیں کر سکی۔ سبھی سینئر بی جے پی لیڈر جانتے ہیں کہ میں نے کیا کیا ہے لیکن بہت سے لوگ ہیں جو راستہ روک رہے ہیں۔‘

’میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں یوگی جی کے ساتھ نہیں تھی، میں نظریہ کے ساتھ تھی، میں ہمیشہ یوگی جی کے بیانات کے خلاف رہی ہوں۔‘

اپنی امیدواری کے حوالے سے چیتنا کا کہنا ہے کہ ’میں سب سے زیادہ پڑھی لکھی امیدوار ہوں، میں پہلے سے ہی عوام کے لیے کام کر رہی ہوں، اس لیے عوام چیتنا کا انتخاب کریں گے۔‘

گورکھپور کا برہمن بمقابلہ ٹھاکر فیکٹر

یوگی کے خلاف دونوں امیدوار برہمن ہیں۔ گورکھپور میں برہمن بمقابلہ ٹھاکر کی لڑائی دہائیوں پرانی ہے، جو یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا فیکٹر ہے۔

یہ لڑائی شروع ہوئی مٹھ کے مہنت دگ وجےناتھ کے زمانے سے ، بتایا جاتا ہے کہ دگ وجےناتھ اور اس وت کے برہمنوں کےلیڈر سورتی نارائن ترپاٹھی کے درمیان ان بن تھی اوریہیں سے اس لڑائی کی شروعات ہوئی۔ اس کےبعد برہمنوں کےلیڈر اور باہوبلی ہری شنکر تیواری نے برہمنوںبنام ٹھاکر کی لڑائی میں برہمنوں کی کمان سنبھال لی۔ اورٹھاکروں کے سب سے بڑے لیڈر ہوئے وریندر پرتاپ شاہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 1998 میں گینگسٹر شری پرکاش شکلا نے وریندر پرتاپ شاہی کا قتل کیا، جس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے ٹھاکروں کی قیادت میں موجود خلا کو پر کیا، یہاں سے ٹھاکروں کی کمان یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھ میں آئی۔بالا دستی کی لڑائی میں مٹھ اور ہاتا (ہری شنکر تیواری کی رہائش گاہ کو گورکھپور میں ہاتاکے نام سے جانا جاتا ہے ) کےدرمیان تیز ہوگئی ۔ طویل عرصے تک یہ لڑائی چلتی رہی اورآخر کار 90 کی دہائی میں یوگی آدتیہ ناتھ نےمٹھ کی طاقت کو فروغ دیا اورہاتا کی بالادستی کم ہوتی چلی گئی۔

کئی دہائیوں سے گورکھپور کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی منوج سنگھ کہتے ہیں، ’گورکھپور کی سیاست میں ٹھاکر بمقابلہ برہمن بالادستی کی ایک طویل تاریخ ہے، یہ جدوجہد اس وقت شروع ہوئی جب گورکھپور یونیورسٹی بن رہی تھی۔ دگ وجے ناتھ نے یونیورسٹی کے لیے زمین عطیہ کی اور اس شہر پر اپنا تسلط چاہتے تھے۔ اور ایک دوسری لابی بھی تھی جو برہمنوں کا دبدبہ چاہتی تھی۔ آگے چل کر یہ بالادستی کی جنگ خونی گینگ وار میں بدل گئی۔یہ سیاسی جد وجہد آج بھی جاری ہے۔اور آج بھی برہمنوں کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا ہے کہ یوگی ٹھاکروں کے لیڈر ہیں۔ ‘

چندر شیکھر کا چیلنج

پچھلے کئی سالوں سے گورکھپور کی سیاست میں یوگی کے سامنے کوئی امیدوار بھی نہیں آسکا جو سرخیوں میں جگہ بنا سکے، لیکن اس الیکشن میں یوگی کے ساتھ سب سے زیادہ چرچے میں رہنے والے بھیم آرمی کے چندر شیکھر آزاد ہیں۔ چندر شیکھر اپنے کیریئر کا پہلا الیکشن لڑ رہے ہیں، اور ان کی پہلی لڑائی وزیر اعلیٰ کے خلاف ہے۔ لیکن گورکھپور کی سڑکوں پر یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ چندر شیکھر بھی یہاں انتخابی جنگ میں ہیں۔ نہ وہ سڑکوں کے ہورڈنگز میں نظر آتے ہیں، نہ مقامی اخبارات کے صفحات پر اور نہ ہی کسی کونے میں اس کے دعوے کے چرچے سننے کو ملتے ہیں۔

جب ہم نے چندر شیکھر سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ مجھے کہاں ڈھونڈ رہے ہیں، وہ پیسے والوں کی جگہ ہے، اگر میں پیسے دوں گا تو اخبار چھاپے گا، ہاں میں چاہتا تھا کہ ہورڈنگز لگائیں لیکن ہمیں اجازت نہیں مل رہی۔ یہاں ہم اپنے پوسٹر بھی لگاتے ہیں، تواسے پھاڑ دیاجا رہاہے ،لیکن میںلوگوں سے مل رہاہوں اور لوگ کہہ رہےہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کے راج سے ناراض ہیں اوراب تبدیلی لائیں گے ۔‘

یوگی کو للکارنے کے سوال پر چندر شیکھر کہتے ہیں کہ مجھے آسان لڑائی پسند نہیں، میں نے کہا تھا کہ اگر یوگی جی ایودھیا یا متھرا سے لڑیں گے تو میں وہیں سے لڑوں گا لیکن وہ ریورس گیئر کے ساتھ گورکھپور پہنچے۔ جب یوگی جی نے پانچ سال کام کیا ہے تو آپ اپنے لیے محفوظ سیٹ کیوں چن رہے ہیں؟

یوگی کا لٹمس ٹیسٹ

گورکھپور ضلع میں نو ودھان سبھا سیٹیں ہیں – کیمپیر گنج، پپرائچ، گورکھپور اربن، گورکھپور دیہی، سہجنوا، کھجنی، چوری چوڑا، بانس گاؤں، چلوپار۔

ایک اندازے کے مطابق کیمپیر گنج اسمبلی سیٹ کے ذات پات کے مساوات پر مبنی 40 فیصد نشاد ووٹر ہیں، یادو اورکرمی ووٹر بھی یہاںاہم کردار اداکرتے ہیں ۔ پپرائچ اسمبلی میں نشاد ذات کے 90 ہزار نشاد ووٹر ہیں اور او بی سی ووٹر بھی فیصلہ کن ہیں۔

گورکھپور دیہی اسمبلی سیٹ کے ذات پات کی مساوات کی بنیاد پر نشاد اور دلت ووٹ زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں۔ کھجنی سیٹ پر دلت ووٹ فیصلہ کن ہیں۔ بانس گاؤں اسمبلی سیٹ کے ذات پات کی مساوات کی بنیاد پر اسے برہمن اکثریتی سیٹ سمجھا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی چلوپار سیٹ پر ذات پات کے غلبہ کے علاوہ ہری شنکر تیواری کے نام پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

یعنی اگر گورکھپور شہر کی سیٹوں کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو گورکھپور کی دیگر سیٹوں پر اعلیٰ ذاتیں فیصلہ کن کردار میں نہیں ہیں۔

(بشکریہ: بی بی سی ہندی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN