کچھ: گجرات حکومت درگاہوں کی “غیر قانونی” تعمیر پر سخت موقف اپنا رہی ہے۔ تازہ معاملہ کچھ سے سامنے آیا ہے۔ عبداسہ کے ساحلی علاقے بھنگوری وانڈ کے تجاوزات پر سرکاری بلڈوزر کا استعمال کیا گیا ہے۔ سرکاری اراضی پر دو درگاہیں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے کچھ میں سرکاری زمینوں پر تجاوزات کے ذریعے تعمیر کی گئی درگاہوں اور مدرسوں سمیت دکانوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ جن درگاہوں پر کارروائی کی گئی ہے ان کے نام وڈا پیر اور حاجی ابراہیم پیر ہی۔
حال ہی میں گجرات کے جوناگڑھ میں مجوادی گیٹ پر واقع درگاہ کے خلاف انتظامیہ نے سخت کارروائی کی تھی۔ سرکاری دعوت کے مطابق درحقیقت اس درگاہ کی تعمیر کا کام ماجوادی دروازے کے قریب دہائیوں پہلے شروع ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ درگاہ کا سائز بڑھتا گیا۔الزام ہے یہ درگاہ سڑک کے بیچوں بیچ سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کرکے بنائی گئی تھی۔ چنانچہ اس غیر قانونی درگاہ کو انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ انتظامیہ نے بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے اس درگاہ کو زمین بوس کر دیا تھا۔ اگرچہ اس درگاہ کو جون 2023 میں گرانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس وقت درگاہ کو گرایا نہیں جا سکا تھا۔ اس دوران 1000 پولیس اہلکاروں نے سیکورٹی کے فرائض سنبھالے ہوئے تھے۔ اس کے بعد رات ہی میں درگاہ کو گرانے کا کام شروع ہو گیا۔ صبح 5 بجے تک درگاہ کو منہدم کر دیا گیا اور پوری زمین ہموار کر دی گئی۔جب بلڈوزر آپریشن جاری تھا تو سڑکوں پر 400 میٹر پہلے سے بیریکیڈنگ کی گئی تھی، تاکہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔اس وقت بی جے پی والی ریاستوں میں درگاہوں کو خاص طور سے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات مخالف مہم کے نام بلڈوز کیا جارہا ہے ۔حالُہی میں اتراکھنڈ میں سیکڑوں درگاہوں کو مسمار کردیا گیا








