چنڈی گڑھ :(ایجنسی)
ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ، جو قتل، عصمت دری کے مقدمات میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، کو Z+ سیکورٹی دی گئی ہے۔ ہریانہ حکومت نے یہ سیکورٹی گرمیت رام رحیم کو دی ہے۔ انہیں یہ سیکورٹی خالصتان کے حامی لوگوں سے ان کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر دی گئی ہے۔ اس مہینے کی شروعات میں گرمیت رام رحیم سنگھ 21 دن کی فرلو پر جیل سے باہر آئے تھے۔
گرمیت رام رحیم سنگھ اس وقت سابق صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل اور ڈیرہ کی دو سادھویوں کی عصمت دری کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ وہ روہتک کی سناریا جیل میں بند ہے۔
اس کے علاوہ اسے ڈیرے کے منیجر رنجیت سنگھ کے قتل کیس میں بھی مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔
سادھویوں کی عصمت دری کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد سال 2017 میں ان کے حامیوں میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ اس دوران پنچکولہ سمیت کئی مقامات پر ہنگامے، آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی اور رام رحیم کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر تشدد کیا تھا۔
پنچکولہ سے شروع ہونے والا تشدد پنجاب کے بھٹنڈہ، مانسا اور مکتسر تک پھیل گیا۔ احتیاط کے طور پر دہلی، مغربی یوپی، اتراکھنڈ تک دفعہ 144 نافذ کرنا پڑا تھا۔ کئی اضلاع میں کئی اسکول اور کالج بند کرنے پڑے تھے۔ کھٹر حکومت اس تشدد سے نمٹنے میں پوری طرح ناکام رہی تھی۔ بس اور ریل خدمات کو بھی روکنا پڑا تھا۔
رام چندر نے انکشاف کیا تھا
صحافی رام چندر چھترپتی کے ذریعے ہی سادھوی کے جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آیاتھا۔ اس معاملے میں چھترپتی نے اپنے اخبار میں ڈیرہ سے متعلق کئی خبریں شائع کی تھیں۔ اس معاملے میں پہلے چھترپتی پر بہت دباؤ ڈالا گیا ، لیکن جب وہ دھمکیوں کے آگے نہ جھکے تو 24 اکتوبر 2002 کو ان پر حملہ کر دیا گیا۔21نومبر 2002 کو ان کی موت ہوگئی تھی۔ سی بی آئی نے 2007 میں اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
ہریانہ اور پنجاب میں اثرات
گرمیت رام رحیم سنگھ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور ہریانہ اور پنجاب کی تمام سیاسی جماعتیں رام رحیم کی حمایت چاہتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہریانہ میں 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ڈیرہ سچا سودا کی حمایت حاصل ہوئی اور پھر ریاست میں اس کی حکومت بنی تھی۔










