خراج عقیدت:ڈاکٹر عبدالرحمن فلاحی
متعدد کتابوں کے مصنف اور شعبہ کلیات طبی کالج جامعہ ہمدرد کے سابق صدر حکیم عبدالباری فلاحی ہم سب کو چھڑ کر اللہ کے حضور چلے گئےحکیم عبدالباری صاحب سے میری ۳۳ سالوں کی رفاقت رہی ہے۔میں جہاں بھی رہا وہ میرے گھر پر مستقل تشریف لاتے رہے، میں خود بھی ان سے ہمدرد یونیورسٹی میں ملاقات کے لیے جایا کرتا تھا، ان کے ہیڈ پروفیسر الطاف احمد اعظمی مرحوم تھے، اسی دوران میرے ان سے بھی روابط ہوگیےتھے۔افسوس کہ دونوں ہی کچھ وقفے سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔حکیم عبدالباری صاحب سے ملنے کے بعد میرا تاثر یہ رہا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی اور فرائض کو انجام دینے کے لیے بہت سنجید تھے۔ ہسٹری آف میڈسن میں ان کی ذمہ داری کچھ خاص نہیں تھی ، اس لیے ہمیشہ اسی تگ و دو میں لگے رہے کہ ان کو شعبہ کلیات میں کلاس لینے کی اجازت دے دی جائے۔ لیکن ڈپارٹمنٹ کی کچھ مجبوری رہی ہوگی اس لیے ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہورہی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ بہت گھٹن بھی محسوس کررہےتھے۔بعد میں جب موقع ملا تو انھوں نے کھل کر اپنی صلاحیت کا جوہر دکھایا۔انھیں ترقی بھی ملی اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمینٹ بھی بنے۔ مرحوم اپنی پوری مدت ملازمت میں نظم و ضبط اور ڈسپلن کے پابند رہے ہیں۔انھیں تصنیف و تالیف سے بھی دل چسپی تھی۔ چوں کہ وہ طبی تاریخ کے ریسرچ شعبہ سے وابستہ رہ چکے تھے اس لیے انھوں تاریخ طب کے موضوعات پر مضامین لکھنا شروع کیا اور بعد میں کئی کتابیں منظر عام پر آگئیں۔
وہ ایک استاد کے علاوہ بہترین مربی بھی رہے ہیں۔ طبی تعلیم کے ساتھ دینی معلومات سے بھی اپنے شاگردوں کو فیض پہنچاتے تھے۔اپنے شاگردوںسے بہت لگاؤرکھتے، ان سے دوری بناکر رہنا پسند نہیںتھا۔ ضرورت پڑنے پر حسب موقع ان کے کام آنامرحوم کا امتیاز تھا۔،لکھائی پڑھائی اور کیرئیر بنانے میں معاونت کرنااور نصاب میں شامل کتابیں ڈسکاؤنٹ ریٹ پر مہیا کرانے میں خصوصی دل چسپی لیتے تھے۔ہر سال ڈائری اور کلینڈر خرید کراپنے دوستوں کو تحفے میں دینا ان کے معمول میں شامل تھا۔
روزمرہ کے معمولات میں اپنی وضع قطع کا خاص خیال رکھتے تھے، شیروانی ٹوپی اور بیگ ایک طرح سے ان کی پہچان بن گئی تھی۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس ڈریس میں نہ ہوتے تو شاید مشکل سے کوئی پہچان پاتا۔وہ جس حال میں بھی گھر سے باہرنکلتے اسی لباس میں نظر آتے۔سفر و حضر میں ایک مخصوص لباس میں رہنے کا اہتمام کرنا کم ہی لوگوں کو توفیق ہوپاتی ہے۔
تعلقات اور روابط بنانے اور پھر اسےنبھانے میں حد درجہ التزام کرتے تھے۔ان کی یہ خوبی تھی کہ کسی سے بھی پہلی ملاقات میں ہی اس طرح بےتکلف ہوجایا کرتے تھےکہ گویا ان سے پہلے ہی قربت ہے۔میرے مشاہدے میں ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے،یہ خیال کیے بغیر وہ رہن سہن میں کس معیار کا ہے۔ان کے ملاقاتیوں میں جو بھی ملنےڈپارٹمنٹ میں آتا اسے اپنے ہاتھ سے چائے بناکر پلاتے، حالاں کہ وہ چاہتے تو ملازم سے بھی کہہ کر یہ کام کراسکتے تھے، لیکن انھیں یہ پسند نہیں تھا۔ شروع کے ایام میں جب ساتھ میں فیملی نہیں ہوتی تھی تو خود سے کھانا بھی بناکر ضیافت کرتےتھے۔
پہلے وہ اپنے گھر پر گراؤنڈ فلور میں کلینک بھی چلاتے تھے، لیکن طبابت سے مزاج کی مناسبت نہیں تھی اس لیے انھوں نے اس پیشہ کو چھوڑ دیا۔دراصل اس کی وجہ سے وہ قید میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔کلینک کی وجہ سے ملاقات کے لیے کہیںجانا دشوار تھا۔ایک موقع پرا نجمن طلبہ قدیم دہلی یونٹ کے ذمے دار بھی رہے ہیں۔اس میں ان کا سرگرم رول رہا ہے۔انجمن کو دہلی میںاس کی پہچان دلانے کے لیے ان کی کارکردگی کوسراہے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ان کی نجی زندگی میں یہ بات بھی دیکھی گئی کہ مواقع اور وسائل ہونے کے باوجود پراپرٹی اور جائیدادبڑھانے کی فکر میں نہیں رہے۔حالاں کہ دوسروں کوتو اس کی ترغیب دیتے رہے اور رہنمائی بھی کی لیکن خود کو ان چیزوں سے بے نیاز رکھا۔
،بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلائی ہے، بیٹا صرف ایک ہے اس نے بھی اعلیٰ تعلیم پائی ہے۔بچیوں کی شادی بڑی سادگی سے اور اپنی شرائط پر کی -الحمدللہ ان کو اچھے رشتے بھی ملے ہیں۔تین بیٹیوں کی ابھی شادی ہونی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی آسانی فرمائے۔ آمین








