غزہ میں برسرِ اقتدار رہنے والی تنظیم حماس کے عسکری دھڑے القسام بریگیڈ نےپانچ روزہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے 70 شہریوں کی رہائی کی مشروط پیشکش کی ہے۔
وائس آف امریکہ نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے حوالہ سے بتایا کہ القسام بریگیڈ نے پیر کو ایک آڈیو پیغام جاری کیا جس میں اس کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ پانچ روزہ جنگ بندی کے دوران لڑائی مکمل طور پر بند ہونی چاہیے اور اس دوران امداد اور انسانوں کی زندگی بچانے کا سامان غزہ کے ہر علاقے میں پہنچنے دیا جائے۔
القسام بریگیڈ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کو اس پیشکش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
حماس کے عسکری ونگ نے آڈیو پیغام میسجنگ پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ پر اپنے چینل پر جاری کیا ہے۔
القسام بریگیڈ کے مطابق اس پانچ روز جنگ بندی معاہدے میں تاخیر یا اس سے فرار کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی۔
وائس آف امریکہ کےمطابق بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو یرغمال افراد کی ہلاکت کی پرواہ نہیں ہے۔ جس کی مثال یرغمال بنائی گئی اسرائیلی فوج کی خاتون اہلکار مارکیانو نوا ہے جس نے ایک ویڈیو میں اپنی بازیابی کی اپیل کی تھی لیکن وہ اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔
اسرائیلی فوج نے بھی حماس کے قبضے میں موجود خاتون فوجی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ القسام بریگیڈ نے خاتون اہلکار کی اپیل اور بعد ازاں ہلاکت کے بعد کی ویڈیوز جاری کی تھیں۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ ثالثی کرنے والے ملک قطر اور امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی (سی آئی اے) کے ساتھ مل کر یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے پاس 240 سے 250 کے درمیان افراد یرغمال ہیں جن میں زیادہ تر اسرائیلی ہیں۔ البتہ ان میں بعض کے پاس امریکہ، جرمنی سمیت دیگر ممالک کی بھی شہریت ہے۔ 35 افراد ایسے یرغمالی بتائے جا رہے ہیں جو کہ اسرائیل کے شہری نہیں ہیں ان میں بھی زیادہ تر کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس میں یرغمالیوں کی رہائی کے باقاعدہ معاہدے کا امکان ہے۔ اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت زیادہ تر خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا اور یہ معاہدہ چند دن میں سامنے آ سکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرے گا جب کہ دوسری جانب اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین، بچے اور کم عمر افراد رہا کیے جائیں گے۔اسرائیل کی خواہش ہے کہ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے تمامافراد کو رہا کر دیا جائے۔ البتہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ تعداد کم ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ابتدائی طور پر 70 خواتین اور بچوں کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔








