تل ابیب :ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی افسر نے پیر کے روز ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں لڑائی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ جس طرح شمالی غزہ پر اسرائیل کو کنٹرول حاصل ہوا ہے اس کی نسبت جنوبی غزہ میں جنگ جیتنے کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔
امریکی اخبار کے مطابق مذکورہ فوجی عہدیدار خان یونس شہر میں اسرائیلی افواج کی کمانڈ کرتا ہے۔ اس نے اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے "گوریلا جنگ” کی حکمت عملی اختیارکی ہے جس میں گھات لگا کر حملہ کرنے اور سنائپرز کے استعمال سے حملہ کیا جاتا ہے۔ اس میں جنگجو براہ راست لڑائی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
القدرہ نے کہا کہ المغازی کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک پرہجوم رہائشی علاقے میں فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی ہے۔ راگ گئے حملے میں قابض فوج نےشہریوں پر بھاری بم گرائے جہاں بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی قابض فوج وسطی علاقے میں کیمپوں کے درمیان مرکزی سڑک پر بمباری کر رہی ہے تاکہ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر انہیں متاثرہ مقامات تک جانے سے روکا جا سکے۔
ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ قابض فورسز نے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے بھاری ہتھیاروں سے بم باری کی جس کی وجہ سے البریج، المغازی اور النصیرات کیمپوں کے درمیان اہم سڑکیں منقطع ہوگئیں، جس سے ایمبولینس اور ریسکیو عملے کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ "اسرائیلی” قابض فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ میں قتل عام کیا، سالم اور النصرہ خاندانوں کے 3 آباد مکانوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
دفتر برائے اطلاعات کے مطابق صہیونی غاصب فوج نے المغازی کیمپ پر کم سے کم 50 خوفناک اور تباہ کن حملے کیے جن میں بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔ گرائے جانے والے بموں نے ہر طرف آگ لگا دی۔









