سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ مودی سرکار نے آمدنی سے زائد اثاثوں کو لے کر مایاوتی پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ اس لیے بی جے پی کی حمایت کرنا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔
معروف صحافی شرت پردھان کہتے ہیں، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی حکومت میں جس طرح ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال کیا جاتا ہے، اس سے امیر سیاسی لیڈروں کو ڈرنا پڑتا ہے۔ مایاوتی کے پاس اپنی آمدنی سے زیادہ اثاثے ہیں، اس لیے وہ زیادہ خوفزدہ ہیں۔
شرد گپتا بھی اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ اس لیے انہوں نے آکاش آنند کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ مایاوتی نے آکاش آنند کو پروجیکٹ کرنے کی حمایت کی ہے۔
وہ کہتے ہیں، “لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ اقلیتی ووٹر بہوجن سماج وادی پارٹی اور سماج وادی پارٹی سے خوش نہیں ہیں، ایسی صورت حال میں یہ ووٹر کانگریس کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسے میں کانگریس کو فائدہ ہوگا۔ اس صورتحال سے بی ایس پی کو یقیناً نقصان پہنچے گا۔ ,
لیکن سینئر صحافی سنیتا ایرن کا کہنا ہے کہ "مایاوتی کی شخصیت ای ڈی سے ڈرنے والی نہیں ہے۔” اس نے صرف اپنا سیاسی انداز بدلا ہے۔
اب لگ یہ رہا ہے کہ بہو جن سماج پارٹی کا مستقبل اور مایو وتی کا کریر ڈھلان پر ہے یاد کرنے والی بات ہے کہ بہوجن سماج پارٹی 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی تھی۔ اس کے بعد سے ان کی انتخابی طاقت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
2017 کے اسمبلی انتخابات میں اسے 403 میں سے صرف 19 سیٹیں مل سکیں۔یہ 1991 کے بعد اس کی بدترین کارکردگی تھی جب اس نے 12 سیٹیں جیتی تھیں۔ اس نے 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 80 سیٹیں جیتی تھیں۔بہوجن سماج پارٹی 2022 کے اسمبلی انتخابات میں صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ تب تک اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کا ووٹ فیصد کم ہو کر 12.88 فیصد پر آ گیا تھا۔بی ایس پی کے پاس پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں چار سے آٹھ فیصد ووٹر ہیں، لیکن پارٹی یہاں بھی اس کا استعمال نہیں کر پا رہی ہے۔
بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مایاوتی کی پارٹی اب زوال کا شکار ہے اور آہستہ آہستہ یہ لوگوں کے دل و دماغ سے پوری طرح دور ہو جائے گی۔
لیکن سینئر صحافی سنیت ایرن کا کہنا ہے کہ مایاوتی کو اتنی جلدی مسترد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس ابھی بھی یوپی میں 12 فیصد ووٹ ہیں۔ ان کی طاقت کا اندازہ 2024 کے انتخابات میں ہوگااس سے پتہ چلے گا کہ ان کے بنیادی ووٹرز کس حد تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پھر بھی دلت ووٹروں کا ایک بڑا حصہ ان کی حمایت کرتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ مایاوتی اب نچلی سطح کی سیاست نہیں کرتی ہیں۔ ان کا اپنے حامیوں سے رابطہ کم ہو گیا ہے۔ اب وہ صرف کرسی کی سیاست کرتی ہیں۔ کبھی وہ ایک یا دو جلسوں میں حصہ لیتی ہیں یا کوئی رسمی بیان جاری کرتی ہیں، 2007 میں چوتھی بار وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے وہ لوگوں سے بہت ملتی جلتی تھیں۔ اس دوران ان کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ سکیورٹی کے نام پر اپنے گھر اور دفتر میں قید کر دیا گیا
سنیتا ایرن کا کہنا ہے کہ بی جے پی دلت ووٹ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ جو پہلے کانگریس اور بی ایس پی کے ساتھ تھے۔ لیکن وہ چاہتی ہےکہ دلت ووٹ بی ایس پی کے بغیر ان کے پاس آئیں۔ 2024 کا انتظار کریں، اگر اس کا ووٹ چھ سات فیصد رہتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ سیاسی طور پر غیر متعلقہ ہوتی جارہی ہے۔۔
(نوٹ :دلیپ منڈل کے مضمون کا اختصار،بشکریہ بی بی سی ہندی)









