اردو
हिन्दी
دسمبر 11, 2025
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیاطالبان پر دباؤ ڈالنے اور عالمی اسٹیج پر تنہا کرنے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے؟

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
190
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

گزشتہ ہفتے افغانستان کے حوالے سے دو اہم خبریں سامنے آئیں جن میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اخلاقیات کے نام سے سخت قوانین کی منظوری اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے طالبان سفیر کی اسناد قبول کرنا شامل تھا۔
سفارتی محاذ پر طالبان کے نمائندے کو تسلیم کیے جانے کو ملک پر2021 سےحکومت کرنے والے لیکن بین الاقوامی طور پر تنہا گروپ نے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔۔
اس تناظر میں سوال یہ اٹھتا ہےکہ اگر امریکہ اور دیگر مغربی ملک افغانستان کو سفارتی طور پر تنہا چھوڑنے کے بجائے اس سے کسی صورت میں تعلقات رکھتے تو کیا مذاکرات یا معاشی امداد کے ذریعہ طالبان کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتے تھے؟
افغان امور پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کے مطابق اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر کہا نہیں جا سکتا کیونکہ افغانستان کی صورت حال بہت پیچیدہ ہے – دنیا اب بھی اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہے۔
واشنگٹن میں "اسٹمسن” تھنک ٹینک میں جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر الزبتھ تھریل کیلڈ طالبان سے تعلقات کےحوالے سے پائی جانے والی تقسیم کے حوالے سے کہتی ہیں کہ بعض مبصرین نے جون میں ہونے والے دوحہ مذاکراتی عمل میں طالبان سے رابطوں پر بھی تنقید کی تھی کیونکہ وفد میں کوئی خاتون نہیں تھی ۔
ان کے بقول ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں عالمی شرکت سے طالبان کو ترغیب ملی اور وہ خواتین کے بارے میں اپنی سخت پابندیوں والی من مانی پالیسیاں بنا سکے۔
دوسری طرف، الزبتھ تھریل کیلڈ، جو سابق امریکی سفارت کار بھی ہیں، کہتی ہیں کہ اس کے مخالف مبصرین کاکہنا ہے کہ دنیا نے افغانستان میں اپنے مقصد سے نظریں ہٹا کرطالبان  کو موقع دیا ہے کہ وہ خواتین کے بارے میں ضوابط پر عمل دارآمد کرا سکیں۔
۔انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا،” حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی برادری کا طالبان پر بہت ہی محدود اثرو رسو خ ہے۔ طالبان نے گزشتہ کچھ سالوں میں اپنے اقتدار کو مضبوط کرلیا ہے ۔”
دارالحکو مت واشنگٹن میں قائم”دی مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ” میں افغانستان اور پاکستان پروگرام کے ڈائریکٹر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ طالبان پر دباؤ ڈالنے اور ان کو عالمی اسٹیج پر تنہا کرنے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہیں۔
غانستان میں اس وقت طالبان کا کوئی متبادل دکھائی نہیں دے رہا اور اگر طالبان کی حکومت کمزور پڑتی ہے تو بہت ابتری ہوگی اور سلامتی کے چیلنجز درپیش ہوں گے۔
ڈاکٹر وائن بام نے وائس آف امریکہ کو بتایا،”میں تو کہوں گا کہ موجودہ حالات میں اگر افغان ریاست کمزور پڑتی ہے تو افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپ سر اٹھالیں گے اور اپنے آپ کو مضبوط کرلیں گے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس تناظر میں امید ہے کہ طالبان افغانستان میں موجود داعش خراساں اور دوسرے گروپوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔”اس سلسلے میں ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ وسطی ایشیائی ملکوں، چین اور جنوبی ایشیائی ملکوں نے پہلے ہی طالبان کے دور حکومت میں افنغانستان سے اقتصادی و تجارتی تعلقات بڑھالیے ہیں اور کابل میں کچھ یورپی ممالک کی نمائندگی بھی ہے۔
البتہ وہ امریکہ کی افغانستان میں سفارتی موجودگی کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے امریکہ کو ملکی حالات کی ایک واضح تصویر مل سکتی تھی۔
ڈاکٹر وائن بام کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر 2021 کے انخلا کے بعد تنہائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے باوجود اب بھی جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ملک کے لیے سب سے بڑا عالمی امداد دہندہ ہے جو مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ افغان عوام کو پہنچائی جاتی ہے۔ اس امداد سے یقنناً افغان معیشت کو بھی استحکام میں مدد ملتی ہےڈاکٹر وائن بام بھی کہتے ہیں کہ اندرونی اور دیرپا تبدیلی افغان عوام ہی لا سکتے ہیں لیکن اس میں وقت درکار ہو گا۔(وائس آف امریکہ)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Bengal New Owaisi Leadership
خبریں

کیا مغربی بنگال میں ‘نیا اویسی’ پیدا کیا جارہا ہے؟

10 دسمبر
Kerala Food Culture Arab Influence Debate
خبریں

اسلامک فوبیا: کیرالہ کیے ذائقہ پر عرب حاوی؟ مقامی فوڈ کلچر پر قبضہ کی سازش؟ موپلستان کی طرف بڑھتا قدم تو نہیں !

10 دسمبر
Akhilesh Questions Detention Centre Motive
خبریں

ڈیٹنشن سینٹر کس لیے، یہ S.I.R. ہے یا N.R.C ؟ اکھلیش کا سوال

10 دسمبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
NCERT Ghaznavi Content

NCRT کی نئی کلاس 7 کی کتاب میں ‘غزنوی حملہ’، مندروں کی تباہی اور اسلام کی اشاعت پر فوکس

دسمبر 7, 2025
Umeed Portal Shutdown Waqf Registration

ڈیڈ لائن کے ساتھ ہی امید پورٹل بند ، کوئی نئی پراپرٹی اپ لوڈ نہیں کی جائے گی۔ 6 ماہ میں کل 5,17,040 وقف املاک درج

دسمبر 7, 2025
Lok Sabha Election CCTV Destroyed

2024 کے لوک سبھا انتخابات کے CCTV فوٹیج کو ضائع کردیا گیا: الیکشن کمیشن کا کورٹ میں جواب

نومبر 13, 2025
Akhilesh Questions Detention Centre Motive

ڈیٹنشن سینٹر کس لیے، یہ S.I.R. ہے یا N.R.C ؟ اکھلیش کا سوال

دسمبر 10, 2025
Bengal New Owaisi Leadership

کیا مغربی بنگال میں ‘نیا اویسی’ پیدا کیا جارہا ہے؟

Kerala Food Culture Arab Influence Debate

اسلامک فوبیا: کیرالہ کیے ذائقہ پر عرب حاوی؟ مقامی فوڈ کلچر پر قبضہ کی سازش؟ موپلستان کی طرف بڑھتا قدم تو نہیں !

Akhilesh Questions Detention Centre Motive

ڈیٹنشن سینٹر کس لیے، یہ S.I.R. ہے یا N.R.C ؟ اکھلیش کا سوال

Authoritarian System in Madrasas and Colleges

مدارس و کالجز میں اربابِ حل و عقد کا آمرانہ نظام

Bengal New Owaisi Leadership

کیا مغربی بنگال میں ‘نیا اویسی’ پیدا کیا جارہا ہے؟

دسمبر 10, 2025
Kerala Food Culture Arab Influence Debate

اسلامک فوبیا: کیرالہ کیے ذائقہ پر عرب حاوی؟ مقامی فوڈ کلچر پر قبضہ کی سازش؟ موپلستان کی طرف بڑھتا قدم تو نہیں !

دسمبر 10, 2025
Akhilesh Questions Detention Centre Motive

ڈیٹنشن سینٹر کس لیے، یہ S.I.R. ہے یا N.R.C ؟ اکھلیش کا سوال

دسمبر 10, 2025
Authoritarian System in Madrasas and Colleges

مدارس و کالجز میں اربابِ حل و عقد کا آمرانہ نظام

دسمبر 10, 2025

حالیہ خبریں

Bengal New Owaisi Leadership

کیا مغربی بنگال میں ‘نیا اویسی’ پیدا کیا جارہا ہے؟

دسمبر 10, 2025
Kerala Food Culture Arab Influence Debate

اسلامک فوبیا: کیرالہ کیے ذائقہ پر عرب حاوی؟ مقامی فوڈ کلچر پر قبضہ کی سازش؟ موپلستان کی طرف بڑھتا قدم تو نہیں !

دسمبر 10, 2025
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN