لکھنؤ ؍ڈومریا گنج :(ایجنسی)
بی جے پی لیڈروں کی زبان بدل رہی ہے۔ ڈومریا گنج سے بی جے پی کے ایم ایل اے اور ہندو یوا واہنی کے ریاستی انچارج راگھویندر سنگھ کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے، جس میں وہ جارحانہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہندو ووٹ نہیں دیں گے تو کیا ہوگا۔ سدھارتھ نگر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کارروائی کر رہی ہے، لیکن چار دن گزرنے کے بعد بھی وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے کیا کارروائی کی ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے راگھویندر پرتاپ سنگھ کا ویڈیو آج سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ جو بھی ہندو دوسری طرف جا رہا ہے، جان لو اس کے اندر میاں (مسلم) کا خون دوڑ رہا ہے۔ وہ غدار ہے، وہ جے چند کی ناجائز اولاد ہے، وہ اپنے باپ کی حرام خور اولاد ہے ، اتنے مظالم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی ہندو دوسری طرف چلا جاتا ہے تو اس کو سڑک پر منھ دکھانے لائق نہیں رہنا چاہئے۔ ایک بار ووانگ ( انتباہ) دینے کےبعد بھی اگر سمجھ میں نہیں آئے گا تو بتا دوں کہ راگھویندر سنگھ کون ہے ۔ اگر میری توہین کریں گےتو کوئی بات نہیں، غدار ی کروں گے تو بھی چلے گا، لیکن اگر ہمارے ہندوسماج کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے تومیں اسے برباد کردوں گا ۔
ایم ایل اے کی تقریر کی آخری لائنوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈومریا گنج کے گاؤں میں جہاں انہوں نے یہ تقریر کی، دراصل وہ اپنے حلقے کے مسلم ووٹروں کو براہ راست دھمکی دے رہے ہیں۔
ایم ایل اے کا یہ ویڈیو 14 فروری سے یوپی کے تمام گروپس میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 14 فروری کو سدھارتھ نگر پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے قانونی کارروائی کے معاملے کا جواب دیا، لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اس حوالے سے کوئی اطلاع دی ہے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے ڈی جی پی یوپی کے نوٹس میں بھی آیا ہے لیکن انہوں نے بھی اس پر کچھ نہیں کہا۔ الیکشن کمیشن بھی خاموش ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی جے پی ایم ایل اے راگھویندر نے ایسا کہا ہو۔ ڈومریا گنج کے ایس پی لیڈروں کا الزام ہے کہ ایم ایل اے جس گاؤں میں بھی جا رہے ہیں وہی زبان میں بول رہے ہیں۔ تقریر کرنے کے بعد وہ اپنے ارد گرد بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے صحیح کہا؟ جواب میں جے شری رام کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔ راگھویندر سنگھ ہندو یووا واہنی کے ریاستی انچارج ہیں۔ یہ تنظیم کافی تنازعات کا شکار رہی ہے۔ اس کے بانی یوگی آدتیہ ناتھ تھے۔ لیکن وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے خود کو اس تنظیم سے دور کر لیا تھا۔ راگھویندر سنگھ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اپنے تعارف میں لکھا ہے کہ وہ ہندو یووا واہنی کے ریاستی انچارج ہیں۔ انہوں نے اپنے پروفائل میں یوگی اور پی ایم مودی کے ساتھ اپنی تصویر بھی لگائی ہے۔
راگھویندر سنگھ واحد ایم ایل اے نہیں ہیں جو ایسی نفرت انگیز تقریر کر رہے ہیں۔ جب سے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ایس پی کے دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ روابط بتائے ہیں، وزیر اعظم مودی سے لے کر وزیر داخلہ امت شاہ تک، یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی تقریریں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یوپی انتخابات میں نفرت کا ماحول بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے جواب میں ایس پی نے جارحانہ رویہ نہیں اپنایا ہے، وہ ترقی، کسانوں، مزدوروں اور دیگر مسائل پر توجہ دے رہی ہے۔ ابھی یوپی میں وزیر اعظم کی تقریباً 8-10 عوامی میٹنگیں ہونا باقی ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ راگھویندر پاٹھک اور مودی جیسی ٹارگٹڈ تقریروں سے بی جے پی کتنا پولرائز کر سکتی ہے۔











