تحریر:رجنیش کمار :- گزشتہ چند سالوں کے رجحان کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مغربی ایشیا کے اسلامی ممالک باہمی اختلافات بھلا رہے ہیں، 2021 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے خلاف ناکہ بندی ختم کی۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان عراق میں بھی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ یمن کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف بھی بدل رہا ہے۔
ترکی اور متحدہ عرب امارات بھی اپنے اختلافات بھلا چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کا دورہ ہوا۔ پیر کو سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ ترکی کے مرکزی بینک میں پانچ ارب ڈالر جمع کرے گا۔ سعودی عرب نے زلزلے سے تباہ شدہ ترکی کے لیے اپنا خزانہ کھول دیا ہے۔
یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ترکی کے مغرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں، سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں اور متحدہ عرب امارات بھی مغرب کی ہر بات کو قبول نہیں کر رہا۔ ایران اور امریکہ کی دشمنی سب کو معلوم ہے۔
کیا اسلامی ممالک جو آپس میں دشمنی رکھتے تھے اب متحد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟
ترکی کو پانچ ارب ڈالر دینے کے فیصلے کے بعد سعودی فنڈ برائے ترقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ مدد اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قریبی تعاون اور تاریخی تعلقات ہیں‘۔
ترکی کے یو اے ای اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات گزشتہ سال پرجوش ہوئے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے گزشتہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات اور اپریل میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔
اس کے بعد گزشتہ سال جون میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ترکی گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ترکی نے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اس وقت بہتر کرنا شروع کیے جب وہ مغرب میں مکمل طور پر تنہا ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا۔ برسوں بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفیر ایک دوسرے کے پاس بھیجے۔
خلیجی ممالک میں ہندوستان کے سفیر تلمیذ احمد نے اردگان کے دورہ سعودی عرب کے دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، "افغانستان کے بارے میں ابہام بڑھ گیا ہے اور اس سے مغربی ایشیا میں امریکہ پر عدم اعتماد مزید گہرا ہوا ہے۔” خلیجی ممالک محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں اس علاقے میں اپنی سفارت کاری خود چلانی پڑے گی۔ سعودی عرب خود ایران سے بات کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات خود ترکی جا رہا ہے۔ ایک نیا ماحول شروع ہوا ہے۔
(نوٹ یہ مضمون کا اختصار ہے ،تفصیل کے خواہاں بی بی سی کی ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں)








