نئی دہلی :(ایجنسی)
کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازع سے متعلق تمام درخواستوں کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ طلباء اسکول یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتے۔
اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اور ایم پی اسدالدین اویسی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، ’میں حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ فیصلے سے اختلاف کرنا میرا حق ہے اور مجھے امید ہے کہ درخواست گزار سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ نہ صرف اے آئی ایم پی ایل بی بلکہ دیگر مذہبی گروہوں کی تنظیمیں بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
وہیں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں تمام لوگوں سے ملک اور ریاست کو آگے لے جانے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہم سب کو امن کی فضا برقرار رکھنی ہوگی۔ طلباء کا بنیادی کام تعلیم اور علم حاصل کرنا ہے۔ سب کو مل کر پرھائی کرنے دو۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا، ’حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کا کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ایک طرف ہم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں، پھر بھی ہم انہیں ایک آسان آپشن کے حق سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ صرف مذہب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔‘
ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی انتظامیہ نے کلبرگی میں پیر شام 8 بجے سے 19 مارچ کی صبح 6 بجے تک دفعہ 144 لاگو کرنے کا حکم دے دیاتھا۔ انتظامیہ نے 21 مارچ تک بنگلورو میں عوامی مقام پر تمام قسم کی دعائیہ اجتماعات، نقل و حرکت یا کسی بھی تقریب پر پابندی لگا دی ہے۔ شیموگہ میں تمام اسکول اور کالج 21 مارچ تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔










