بات تھی مسلمان کو ٹھیک کرنے کی اسے لائن پر لانے کی! اس کی فکر میں یکساں سول کوڈ بنانے کی لیکن کیا آپ نے دیکھا کہ یونیفارم سول کوڈ کے خلاف مسلمان کم مشتعل ہیں اور آدیواسی، سکھ، عیسائی اور ہندو زیادہ مخالف ہیں؟ بھگانا تھا بنگلہ دیشی ایک سے دو کروڑ مسلم گھس پیٹھیوں کو،اس کے لیے مودی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون یعنی CAA دسمبر 2019 میں زبردست پروپیگنڈے کے ساتھ پارلیمنٹ سے پاس کرایا۔ صدر نے دستخط کر دیئے۔ اس ایکٹ کو 10 جنوری 2020 کو نوٹیفائی کیا گیا لیکن آج تک وزارت داخلہ نے اس قانون کو لاگو کرنے کے لیے قواعد نہیں بنائے ۔ حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اور اب شمال مشرق کا تجربہ کیا ہے؟ مقامی قبائلی اور بھارت کےمولواسی منی پور سےبھاگ رہے ہیں۔ وہ شرنارتھی بن چکے ہیں۔ سوچیں، ایک بھی بنگلہ دیشی درانداز کو بے دخل نہیں کیا گیا لیکن شمال مشرق میں ہندوؤں اور قبائلیوں کو بے گھر ہوگئے ہیں۔
اسی طرح جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کرکے وادی کے مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانا تھا۔ پنڈتوں کو کشمیر واپس بسانا تھا ہندوؤں کو وادی میں زمین خریدنی تھی، ہندو بستیاں تعمیر کرنی تھیں لیکن ہندو اب بھی بھاگ رہے ہیں، جب کہ وادی کے مسلمان سیاحت سے بڑی رقم کما کر مالامال ہو رہے ہیں اور اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ .
اس سے بھی زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ تمل ناڈو کے اسٹالن، تلنگانہ کے کے سی چندر شیکھر راؤ، قبائلی تنظیمیں، سکھ تنظیمیں یکساں سول کوڈ یا گورنر کے رویے کے بہانے، ہندی کے بہانے سوال اٹھا رہی ہیں جوملک کے سناتنی ثقافتی اتحاد پر چوٹ ہے۔ واقعی ہندو وادیوں کےدماغ کا بھگوان ہی مالک ہے۔ ان کے پاس اتنا بھی بھیجہ نہیں کہ اگر دنیا کے ممالک میں سکھ انتہا پسند بھارت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں تو ہندو قوم پرست انہیں سمجھائیں نہ کہ سڑکوں پر ان کے خلاف احتجاج کریں اور انہیں للکاریں۔ گزشتہ ہفتے عالمی دارالحکومتوں میں بھارت کے خلاف مبینہ خالصتانیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا چرچا تھا۔ اس راشٹروادیوں نے کیا کیا؟ مودی سرکار نے جہاں غیر ملکی حکومتوں کو لعن طعن کیا وہیں ہندو قوم پرستوں نے خالصتانیوں کے سامنے سڑک پر ترنگا لہرا کر احتجاج کیا!
اندرا گاندھی، کانگریس کی حکومتوں کے دوران ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جب پنجاب میں انتہا پسندی کا طوفان آیا تو اسے گھر کے اندر دو بھائیوں کے کشیدہ رشتوں کے تناظرمیں سنبھالا گیا۔ جبکہ اب کیا؟ پنجاب کے عسکریت پسندوں کو پکڑ کر آسام کی جیلوں میں رکھا جاتا ہے اور سکھ خاموشی سے سلگ رہےہیں۔ بیرون ملک خالصتانیوں کے حملے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہندو اور سکھ کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ میں آمنے سامنے لڑ رہے ہیں۔ وہی نام نہاد ہندو قوم پرست سوشل میڈیا میں غیر ملکی حکومتوں، عیسائیوں، مسلمانوں، سیکولر لوگوں پر الزام لگا رہے ہیں،توکڑے ٹکڑے گینگ کی سازش بتا رہے ہیں۔
دراصل اقتدارپرست آمریت نے قوم پرستی کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی پٹی باندھ دی ہے جس میں بانٹنے ووٹ حاصل کرنے، کرسی پر قبضہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ منی پور پانی پت کی جنگ کا ایک چھوٹا سا ورژن بن گیا ہے اور پی ایم نریندر مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ نہ تو وہ منی پور گئے اور نہ ہی امت شاہ کو یہ سمجھ آیا کہ وہ آل پارٹی میٹنگ میں تمام پارٹیوں کے لیڈروں کے وفد کو اپنے ساتھ لے کر امپھال میں بیٹھتےدونوں کمیونیٹیز میں یہ پیغام دینے کہ پورا ملک، ملک کی ساری سیزخموں پر مرہم رکھنے کے لیے آگئی ہے۔
درحقیقت اقتدار پرستی اور اس کی بھوک کا ایسا زہر ہندو قوم پرستوں کے دل و دماغ میں پیوست ہو چکا ہے کہ ہر کسی کو لوگوں، ذاتوں، برادریوں، مذاہب، قبائل، دلت، سناتنی بمقابلہ ناستک انٹیلیکچول بمقابلہ گنوار، آپ اور میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یقیناً نام نہاد ٹکڑے ٹکڑے گینگ کو یہ سوچ کر بھی شرم آتی ہو گی کہ انگریزوں نے بھی تقسیم کے ایسے زخم اپنے اقتدار کے لیے نہیں لگائے تھے۔
(نوٹ:ہندوتواوادی سماج کی فکر سے ہمدردی رکھنے والا انٹلکچول کلاس موجودہ حالات و مسائل کو کس طرح دیکھتا ہے ،یہ مضمون اس کی عکاسی کرتا ہے ۔مرکزی حکومت کے طور طریقوں پر وہ بھی بے چین ہے اور اب اسکا اظہار کررہا ہے ،قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے नया इंडियाکے شکریہ کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ۔اس کے خیالات سے روزنامہ خبریں کا اتفاق ضروری نہیں ادارہ)







